سورة المؤمنون - آیت 3

وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور جو بے کار اور لغو باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣] لغو سے مراد فضول اور بیکار مشغلے اور کھیل بھی ہوسکتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ اگر تفریح طبع کے لئے یا جسمانی کسرت کے طور پر کوئی کھیل کھیلتے ہیں تو ایسے کھیل نہیں کھیلتے جن میں محض وقت کا ضیاع ہو بلکہ ایسے کھیل کھیلتے ہیں جن سے کوئی دینی فائدہ بھی حاصلہوتا ہو۔ جیسے جہاد کی غرض سے تیراکی، نیزہ بازی، تیراندازی، اور نشانہ بازی وغیرہ۔ اور لغو سے مراد بیہودہ اور فضول باتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ جیسے فضل گپیں، غیبت، بکواس، تمسخر، فحش گفتگو اور فحش قسم کے گانے وغیرہ۔ ان باتوں سے وہ صرف خود ہی پرہیز نہیں کرتے۔ بلکہ جہاں ایسی سوسائٹی پر وہاں سے وہ اٹھ کر چلے جاتے ہیں اور وہاں رہنا قطعاً گوارا نہیں کرتے۔