سورة الحج - آیت 75

اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اللہ فرشتوں میں سے اپنے کچھ پیغام پہنچانے والے چن (٣٨) لیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی، بیشک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٠٤] یعنی اللہ پیغام رسانی کے لئے فرشتوں میں سے اور آدمیوں سے بھی انتخابت خود اپنی حکمت اور صوابدید کے مطابق کرتا ہے۔ فرشتوں میں سے حضرت جبریل یا وہ فرشتے جو حضرت زکریا، حضرت مریم، حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کے پاس پیغام رساں بن کر آئے تھے اور لوگوں میں سے تمام انبیاء و رسل اللہ ہی کا پیغام لوگوں کو پہنچاتے رہے ہیں اور احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ جس طرح لوگوں میں سے پیغمبر سب سے افضل ہوتے ہیں۔ اسی طرح پیغام رساں فرشتے بھی دوسرے فرشتوں سے افضل ہیں۔ اس آیت میں دراصل کافروں کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو وہ مکہ اور طائف کی بڑی بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی کا انتخاب کرتا۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ یہ بات بھی اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ لوگوں میں سے رسالت کا اہل کون ہے اور اس معاملہ میں کسی کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔