سورة الحج - آیت 30

ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ ۗ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ۖ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

مذکورہ بالا باتیں لائق اہمیت ہیں، اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں (١٨) کا احترام کرے گا تو اس کا یہ عمل صالح اس کے رب کے نزدیک اجر و ثواب کے اعتبار سے اس کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تمہارے لیے چوپایوں کو حلال کردیا گیا ہے، سوائے ان کے جن سے متعلق اس قرآن کی آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں، پس تم لوگ گندگی یعنی بتوں کی عبادت سے بچو، اور جھوٹ بولنے اور بہتان تراشی سے بچو۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٤٤] حرمت اللہ سے مراد اللہ کی حرام کردہ اشیاء بھی ہیں اور قابل احترام اشیاء یعنی شعائر اللہ بھی۔ یعنی ان سب چیزوں کی حرمت و احترام کا پورا پورا خیال رکھنا چاہئے اور تعمیر کعبہ کا اولین مقصد یہ تھا کہ اسے شرکیہ اعمال و افعال اور بتوں کی نجاستوں سے پاک و صاف رکھا جائے۔ اور قریش مکہ نے ایسی نجاستوں کا بھی۔۔ خیال نہ رکھا اور جو لوگ اللہ کی توحید کے قائل تھے ان کے بیت اللہ میں داخلہ پر بھی پابندیاں لگا دیں۔ گویا اللہ کے گھر اور اس کے شعائر کی ہر طرح سے توہین کی۔ نیز اس مقام پر حرمت سے مراد عموماً حج، عمرہ، کعبہ، قربانی اور احرام سے متعلق احکام ہیں۔ جیسے کسی۔۔ لڑائی جھگڑا کرنے، احرام کی حالت میں شکار کرنے اور صحبت کرنے سے بچنا اور ایسے احکام کا پورا پورا پاس رکھنا ضروری ہے اور یہ چیز ان کے حق میں ہیں اور اللہ کے ہاں بڑی خوبی اور نیکی کی بات ہے۔ [٤٥] یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام چرنے والے چوپائے انسان کے لئے حلال قرار دیئے ہیں ماسوائے ان چیزوں کے جن کا ذکر پہلے کئی مقامات پر آچکا ہے اور وہ ہیں مردار خواہ وہ جانور کسی بھی طریقہ سے مر گیا ہو (٢) ہر وہ جانور یا چیز جو غیر اللہ کے نام پر مشہور کی جائے اس جملہ میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ مشرکین مکہ نے جو بحیرہ وصیلہ، سائیہ اور حام قسم کے مویشی حرام قرار دے رکھے ہیں۔ یہ قطعاً اللہ کی طرف سے حرام کردہ نہیں ہیں۔ [٤٦] یعنی آستانوں کی آلائشوں اور بتوں کی پرستش سے یوں بچو جیسے انسان گندگی کے ڈھیر سے بچتا ہے اور اسے اس گندگی کے نزدیک جانے سے بھی گھن آتی ہے۔ تمام جانور اللہ کی مخلوق و مملکوک ہیں۔ لہذا اسی کے نام پر اور اسی کے لئے کعبہ کی نیاز ہوسکتے ہیں۔ کسی۔۔ یا آستانہ پر ذبح کیا ہوا جانور مردار کی طرح حرام اور نجس ہے۔ لہذا ایسے کاموں سے بچنا ضروری ہے۔ [٤٧] قول الزور میں دونوں الفاظ بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ زور کے معنی صرف جھوٹ نہیں بلکہ ہر وہ بات ہے جو حق سے ہٹی ہوئی ہو اور اس کی کئی قسمیں ہوسکتی ہیں۔ قول الزور کے مقابلہ میں قرآن میں قولاً سدیداً کے الفاظ آئے ہیں یعنی ایسی بات جس مسیں کوئی رخنہ، ایہام، ہیرا پھیری اور۔۔ نہ ہو اور قول الزور ایسی بات ہے جس میں یہ باتیں، ان میں سے کوئی ایک موجود ہو اور صاحب فقہ اللغہ~ن~ کے نزدیک زور ایسا جھوٹ ہے جسے بنا کر سنوار کر پیش کیا جائے کہ وہ بھلا اور درست معلوم ہو۔ اس لحاظ سے اللہ کے پیدا کئے ہوئے جانوروں کو غیر اللہ سے نامزد کرکے انھیں ذبح کرنا، بلادلیل شرعی حلال کو حرام بنانا اور حرام کو حلال بنالینا یہ سب قول الزور ہی کی اقسام ہیں اور افتراء علی اللہ بھی ہیں۔ ہر قول الزور کی ایک قسم شہادۃ السور ہے۔ یعنی ایسی شہادت جس میں ہیرا پھیری سے کام لیا جائے۔ اہم واقعہ کو غیر اہم اور غیر اہم کو اس طرح اہم بنا کر پیش کیا جائے۔ جس سے کسی ایک فریق کی حق تلفی ہوجائے اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاوے۔ اور یہ اتنا بڑا گناہ ہے جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرک کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ یہاں اس آیت میں شرک کے ساتھ ہی قول الزور کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیز عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ کہ آپ نے فرمایا : ''میں تمہیں بڑے بڑے گناہ بتلاؤں؟'' ہم نے عرض کیا : ''یارسول اللہ ! ضرور بتلائیے'' فرمایا : ''اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا'' اس وقت آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا : ''جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا، سن لو! جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا'' آپ برابر یہی الفاط دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ میں سمجھا کہ آپ چپ ہی نہ ہونگے'' (بخاری۔ کتاب الادب باب عنوان الوالدین من الکبائر)