سورة الحج - آیت 19

هَٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ ۖ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارٍ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے دشمن (١٢) ہیں، انہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، پس جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان کے لیے قیامت کے دن آگ کے کپڑے بنائے جائیں گے ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا گرم پانی انڈیلا جائے گا۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٢٦] یعنی جھگڑنے اور لڑائی کرنے والے دو فریقوں میں سے ایک فریق تو اللہ کے فرمانبرداروں اور مسلمانوں کا ہے اور دوسرا کافروں کا۔ اور اس کافروں کے فریق میں وہ سب گروہ شامل ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا یعنی یہودی، صابی، عیسائی، مجوس، مشرکین اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی جن کا اس آیت میں ذکر نہیں ہے جیسے ہندو، سکھ، بدھ مت والے، اللہ کی ہستی کے منکر یعنی نیچری اور دہریے وغیرہ سب اس دوسرے فریق شامل ہیں۔ ان دونوں فریقوں میں باعث نزاع مسئلہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات ہیں۔ فریق اول تو اللہ کی صفات بالکل اسی طرح تسلیم کرتا ہے جس طرح اللہ نے خود بتلائی ہیں۔ پھر وہ اللہ کا فرمانبردار اور اس کے حضور سجدہ ریز بھی رہتا ہے۔ دوسرے فریق میں ہر طرح کے لوگ شامل ہوجاتے ہیں۔ اور کبھی یہ فریق اول کے مقابلہ میں گٹھ جوڑ بھی کرلیتے ہیں۔ پھر یہ فریق صرف بحث و مناظرہ میں ہی ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بنتے بلکہ میدان جہاد و قتال میں بھی ان کی یہی صورت ہوتی ہے اور حضرت علی (رض) تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ آیت اتری ہی ان لوگوں کے حق میں تھی۔ جو غزوہ بدر میں مقابلہ کے فریق بنے تھے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ قیس بن عباد کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ''قیامت کے دن میں سب سے پہلے پروردگار کے سامنے دو زانو بیٹھ کر اپنا مقدمہ پیش کروں گا'' قیس کہتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے سلسلہ میں اتری۔ جو بدر کے دن مبارزت کے لئے نکلے تھے۔ یعنی (مسلمانوں کی طرف سے) علی، حمزہ اور عبیدہ بن حارث اور (کافروں کی طرف سے) شیبہ بن عتبہ، عتبہ بن ربیعہ، اور ولید بن عتبہ۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) اس حدیث میں میدان بدر مبارزت کا اجمالی سا ذکر ہوا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ جب لشکر کفار کو اس بات کا علم ہوگیا کہ تجارتی قافلہ بخیریت مکہ پہنچ گیا ہے تو سرداران قریش میں سے ایک سنجیدہ طبقہ کی رائے یہ تھی کہ اب جنگ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جس مقصد کے لئے ہم نکلے تھے وہ حاصل ہوچکا۔ عتبہ بن ربیعہ اور حکیم بن حزام ایسے لوگوں میں سے تھے۔ اس جنگ کا ایک سبب ایک حضرمی کا قتل بھی تھا۔ جو وادی نخلہ کے واقعہ مسلمانوں سے قتل ہوگیا تھا۔ حکیم بن حزام، عقبہ بن ربیعہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ میرے ذہن میں ایک تجویز آئی ہے۔ اگر تم چاہو تو لوگوں کو جنگ اور خونریزی سے بچا کر بہت بڑی نیکی کما سکتے ہو۔ عتبہ نے پوچھا وہ کیا تجویز ہے؟ حکیم بن حزام (جو بعد میں اسلام لے آئے تھے اور جلیل القدر صحابی ہیں) نے کہا کہ اس حضرمی کی دیت تم خود ادا کردو۔ تو قصاص کا اضطراب جو لوگوں میں پھیلا ہوا ہے۔ از خود ختم ہوجائے گا۔ عتبہ نے اس تجویز کو بخوشی قبول کرلیا۔ پھر یہ دونوں حضرات جنگ بندی کے سلسلہ میں ابو جہل کے پاس گئے جو ایک متکبر، سرکش اور مشتعل مزاج سردار تھا۔ اسے یہ رائے قطعاً پسند نہ آئی۔ اس نے عتبہ کو کہا کہ تم اس لئے جنگ سے فرار چاہتے ہو کہ تمہارا ایک بیٹا مسلمان ہوچکا ہے اور تم اب بزدلی دکھا رہے ہو؟ عتبہ یہ بزدلی کا طعنہ برداشت نہ کرسکا اور کہنے لگا کہ کل معلوم ہوجائے گا کہ بزدل کون ہے؟ دوسری طرف ابو جہل نے حضرمی کے قبیلہ کو مشتعل کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لشکر کفار میں جنگ کی عمومی فضا پیدا ہوگئی اور جنگ نہ ہونے کا امکان ختم ہوگیا۔ دوسرے دن جب دونوں لشکر مقابلہ پر آگئے تو یہی عتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور بیٹے ولید بن عتبہ کو لے کر نکلا اور ھل من مبارز (کوئی مقابلہ کے لئے سامنے آتا ہے؟) کا نعرہ لگایا۔ مسلمانوں کے لشکر سے تین انصاری صحابہ مقابلہ کے لئے نکلے تو عتبہ نے چیخ کو پوچھا من انتم؟ من القوم؟ (یعنی تم کون لوگ اور کس قوم سے ہو؟) انہوں نے اپنے نام بتلائے تو عتبہ نے کہا : تم ہمارے جوڑے نہیں ہو ہم تم سے لڑنے نہیں آئے۔ پھر چیخ کر پکارا : محمد! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری توہین نہ کرو۔ ہم ان کاشت کاروں سے لڑنے نہیں آئے۔ ہمارے مقابلہ میں ان لوگوں کو بھیجو جو ہمارے ہمسر اور ہمارے جوڑ کے ہوں۔ اور ایک روایت میں آیا کہ اس موقع ہر عتبہ کے مسلمان بیٹے اور ابو حذیفہ نے اپنے باپ کے مقابلہ پر نکالنا چاہا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں روک دیا۔ پھر حضرت حمزہ، حضرت علی (رض) اور حضرت عبیدہ بن حارث مقابلہ کے لئے نکلے۔ حضرت حمزہ نے عتبہ کو جلد ہی ٹھکانے لگا دیا اور حضرت علی (رض) نے شیبہ کو جہنم واصل کیا۔ لیکن حضرت ابو عبیدہ بن حارث کا ولید بن عتبہ سے شدید مقابلہ ہوا۔ دونوں کا بیک وقت ایک دوسرے پر کاری وار ہوا۔ حضرت ابو عبیدہ کی ٹانگیں کٹ گئیں اور وہ گرپڑے تو حضرت حمزہ اور حضرت علی (رض) آگے بڑھے اور ولید کا کام تمام کرکے ابو عبیدہ کو، جو دم توڑ رہے تھے، اٹھا کرلے آئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے چلو وہاں پہنچ کر انہوں نے آپ سے پوچھا کہ میرے متعلق کیا ارشاد ہے؟ آپ نے فرمایا تمہیں یقیناً جنت ملے گی'' اس اطلاع پر ان کے چہرے پر بشاشت آگئی اور کہا : کاش آج ابو طالب زندہ ہوتے تو وہ دیکھ لیتے کہ میں نے اپنی بات سچ کر دکھائی ہے اور اپنی جان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نچھاور کردی ہے۔ [٢٧] یعنی فریق دوم کے لئے جنہوں نے کفر اور سرکشی کی راہ اختیار کی ان کے لباس میں کسی آتش گیر مادہ سے بنے ہوئے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (سَرَابِیْلُہُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰی وُجُوْہَہُمُ النَّارُ 50؀ۙ) 14۔ ابراھیم :50) یہ لباس بھڑک کر ان کے جسموں سے چمٹ جائے گا اور سر کے اوپر سے کھولتا ہوا جو پانی ڈالا جائے گا وہ اس آگ کو بجھائے گا نہیں بلکہ مزید آگ کو بھڑکانے کا باعث بن جائے گا۔ اس سے ان کے چمڑے گل کر گر پڑیں گے تو فوراً نئی جلد پیدا کردی جائے گی۔ تاکہ ان کے عذاب میں کمی واقع نہ ہو۔ پھر یہی کھولتا ہوا پانی ان کے دماغ کی راہ سے جسم کے اندر پہنچے گا جس سے سب انتڑیاں کٹ جائیں گی۔ مسید برآن انھیں لوہے کے ہنٹروں سے پیٹا بھی جائے گا جب وہ دوزخ سے نکل بھاگنے کی کوشش کریں گے تو فرشتے انھیں ہنٹر مار مار کر پھر دوزخ میں دھکیل دیں گے اور ساتھ ہی انھیں یہ بتلاتے جائیں گے کہ یہ تمہارے ہی اعمال کا بدلہ ہے۔ اب بھاگتے کیوں ہو اور یہ دائمی عذاب کا مزا تمہیں چکھنا ہی پڑے گا۔