سورة الأنبياء - آیت 98

إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

بیشک تم لوگ (٣٥) اور تمہارے وہ معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے جہنم کے ایندھن بنو گے، اس میں داخل ہوگے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٨٨] یعنی مشرکوں کو ان کے معبودوں یعنی بتوں سمیت جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور یہ بت عموماً پتھر کے ہوتے تھے۔ اسی مضمون کو اللہ نے سورۃ بقرہ میں فرمایا (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ۝) 66۔ التحریم :6) جہنم کا ایندھن آدمی بھی ہوں گے اور پتھر بھی اور ان معبودوں کو جہنم میں دیکھ کر ان کے پوجنے والوں کی تکلیف اور حسرت میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔ ایک اس لئے کہ جن معبودوں سے وہ کئی طرح توقعات وابستہ کئے ہوئے تھے وہ ایسے بے بس ثابت ہوئے کہ انہی کی طرح جہنم میں جل رہے ہیں اور دوسرے اس لئے وہ جہنم کا ایندھن بن کر ان پجاریوں کے آگ کے عذاب کو مزید بھڑکانے کا باعث بن رہے ہیں۔