سورة الأنبياء - آیت 93

وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ ۖ كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور لوگ آپس میں (دینی اعتبار سے) ٹولیوں میں بٹ گئے اور سب کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٨٤] یہ دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے عموماً مذہبی پیشوا قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ خواہ یہ علمائے کرام ہوں یا مشائخ عظام اور اس سے ان کا مقصد عموماً حصول مال و جاہ ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیسیوں مقامات پر فرمایا کہ عالم الغیب اور حاضر و ناظر، حاجت روا اور مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اور یہی تمام انبیاء کا مشترکہ دین تھا۔ اب یہ حضرات یہ ثابت کرنا شروع کردیتے ہیں کہ انبیاء اور ہمارے بزرگان کرام سب ہی غیب کی خبریں جانتے ہیں اور اپنے اپنے مریدوں کے احوال پر حاضر و ناظر ہوتے ہیں۔ وہ بزرگ خواہ زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں۔ ان کو پکارا جائے یا ان سے فریاد کی جائے تو وہ بھی لوگوں کی فریادیں سنتے اور ان کی امداد کو پہنچ جاتے ہیں۔ ان باتوں پر وہ اپنا سارا زور صرف کرتے، ایسے واقعات اور قصے تراش کر انھیں عوام میں اتنا مشہور کردیتے ہیں کہ وہ الٹا توحید پرستوں کو شامت لے آتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ان کی گدیاں بحال رہیں اور نذرانے وصول ہوتے رہیں۔ لوگ ان کے در دولت پر حاضری دیتے رہیں۔ اور یہ حضرات انھیں مشکل کشائی اور حاجت روائی کے سبز باغ دکھلاتے رہیں اور قیامت کے دن شفاعت کرکے انھیں بخشوا دینے کا یقین دلاتے ہیں۔ کتاب و سنت کی رو سے یہ سب راہیں شیطانی راہیں ہیں۔ انبیاء کے مشترکہ دین کے خلاف ہیں۔ پھر بعض دفعہ علماء کی طرف سے ایسی بحثیں چھیڑ دی جاتی ہیں۔ جن کا دین سے کچھ تعلق نہیں ہوتا نہ ان کا دین میں کچھ مقام ہوتا ہے اور نہ ہی پھر ان پر کوئی عملی فائدہ مرتب ہوتا ہے مثلاً یہ کہ قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق؟ اللہ تعالیٰ جو ہر چیز پر قادر ہے وہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے یا نہیں؟ یا یہ کہ کوا حلال ہے یا حرام؟ یا نصاریٰ میں یہ ایک مسئلہ مدتوں زیر بحث رہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خمیری روٹی کھایا کرتے تھے یا فطیری؟ یا اصحاب کہف کی تعداد کتنی تھی؟ پھر ایسے مسائل پر بحث و بدال اور مناظرے ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ دونوں طرف سے کتابیں بھی لکھی جاتی ہیں۔ اور یہ سب کچھ پوری قوم کے وقت کا ضیاع ہے۔ اور ایسے مسائل عموماً اس وقت علماء کی طرف سے کھڑے کئے جاتے ہیں جب قوم عملی انحطاط کا شکار ہو رہی ہو اور علماء کا عوام کی توجہ اپنی طرف مبذول رکھنا مقصود ہو۔ یہ سلسلہ بھی بالآخر فرقہ بازی پر منتج ہوجاتا ہے۔ جو کتاب و سنت کی رو سے کفر و شرک اور اللہ کا عذاب ہے۔