سورة الأنبياء - آیت 90

فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور انہیں یحی (بیٹا) عطا کیا اور ان کی بیوی کو اولاد جننے کے قابل بنا دیا، بیشک وہ لوگ خیر کے کاموں کی طرف سبقت (٣١) کرتے تھے، اور ہمیں امید و بیم کی حالت میں پکارتے تھے اور ہمارے لیے خشوع و خضوع اختیار کرتے تھے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٨٠] بعض صوفی حضرات کہا کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت جنت کی توقع یا اس کے عذاب کے خوف سے کرتا ہے وہ اصلی محب نہیں ہے اور اپنے اس نظریہ کو اتنا پھیلایا کہ عوام الناس بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے : سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے او خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے حالانکہ اللہ تعالیٰ انبیاء کی یہ صفت بیان فرما رہے ہیں کہ وہ ہمیں توقع اور خوف سے پکارا کرتے تھے۔ گویا اس آیت میں ایسے متصوفین کا مکمل اور موجود ہے۔ کیونکہ انبیاء سے بڑھ کر اللہ کا محب اور کون ہوسکتا ہے؟