سورة الأنبياء - آیت 80

وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ ۖ فَهَلْ أَنتُمْ شَاكِرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور ہم نے انہیں تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانا سکھایا تاکہ وہ (زرہ) تمہیں لڑائی کے نقصانات سے بچائے تو کیا تم لوگ اللہ کا شکر ادا کرو گے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٦٨] اس آیت سے معلوم ہوتا کہ زرہ سازی کے موجد حضرت داؤد (علیہ السلام) لیں۔ اس کی مزید تفصیل سورۃ سبا میں یوں ہے : (وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا ۭیٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ 10 ۝ ۙ) 34۔ سبأ:10) یعنی ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے لئے لوہے کو نرم بنا دیا تھا اور انھیں ہدایت کی تھی کہ پورے ناپ کی زرہیں بناویں اور اس کی کڑیوں میں اندازے کے ساتھ جوڑ لگائیں۔ آپ کے لئے لوہے کو نرم کرنے کے دو معنی لئے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کے ہاتھ لوہا موم کی طرح نرم ہوجاتا تھا اور جس طرح چاہتے اس کی زنجیریں بنا کر زرہیں تیار کرلیتے تھے اور دوسری توجیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوہے کے پگھلانے کا اور ڈھلائی کا کام سکھلا دیا تھا۔ آپ کا زمانہ اندازاً ١٠٥ ق م سے ٩٤٥ ق م تک ہے۔ جبکہ یہی زمانہ لوہے کا زمانہ AgeIron کہلاتا ہے۔ اس سے پیشتر جو لوہے سے تلواریں اور نیزے یا دوسری اشیاء بنائی جاتی تھیں اس کا طریق کار یہی تھا کہ لوہے کو آگ میں تپایا جاتا اور جب وہ وہ آگ کی طرح سرخ ہوجاتا تو اسے کوٹ کاٹ کر ایسی اشیاء تیار کرلی جاتی تھیں۔ لوہے کی ڈھلائی کے فن سے بھی اگرچہ چند ایک اقوام واقف ہوچکی تھی تاہم یہ سب کچھ صیغہ راز میں بھی رکھا جاتا تھا اور جنگی اغراض کے لئے لوہے کی زرہیں بنانے کا کام داؤد (علیہ السلام) نے ہی شروع کیا تھا۔ لڑائی کے دوران اپنی حفاظت کے لئے زرہ چونکہ ایک نہایت اہم ہتھیار ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ کیا تم اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہو کہ اس نے حضرت داؤد کے ذریعہ بنی نوع انسانی کو زرہ سازی کا فن سکھلا دیا۔ واضح رہے کہ حضرت داؤد بیت المال سے کچھ بھی نہیں لیتے تھے بلکہ اپنی ہاتھ کی کمائی پر ہی گزر اوقات کرتے تھے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : داؤد (علیہ السلام) پر زبور کا پڑھنا اتنا آسان کردیا گیا تھا کہ وہ جانور پر زین کسنے کا حکم دیتے اور ابھی زین پوری طرح کسی بھی نہیں جاتی تھی کہ آپ زبور پڑھ چکتے اور آپ کی گزر اوقات صرف اپنے ہاتھ کی کمائی پر تھی۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء باب قول اللہ تعالیٰ (وَاٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا ١٦٣؀ۚ) 4۔ النسآء :163)