سورة طه - آیت 91

قَالُوا لَن نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عَاكِفِينَ حَتَّىٰ يَرْجِعَ إِلَيْنَا مُوسَىٰ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

سامریوں نے کہا، ہم تو اسی بچھڑے کی عبادت پر جمے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ہمارے پاس لوٹ کر آجائیں۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٦٣] جب یہ لوگ گؤسالہ پرستی میں مبتلا ہونے لگے تو ہارون (علیہ السلام) نے بروقت ان کو تنبیہ کی تھی۔ یہ بچھڑا قطعا ً تمہارا الہٰ نہیں ہے، تمہارا الہٰ صرف وہی ذات ہوسکتی ہے جو تمہارا خالق و مالک اور تمہارا پروردگار ہے۔ لہذا اس گؤسالہ پرستی سے باز آؤ اور میری بات مان لو اور سامری کے فریب میں نہ آؤ مگر یہ مدتوں سے بگڑی ہوئی قوم بھلا سیدنا ہارون جیسے نرم مزاج آدمی کے حکم کو کیا سمجھتی تھی؟ کہنے لگے : تم آرام سے بیٹھو اور اپنی خیر مناؤ۔ موسیٰٰ آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ سردست ہم اس کام کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔