سورة مريم - آیت 17

فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

پھر لوگوں کی طرف سے اپنے لیے ایک پردہ بنا لیا، تو ہم نے اس کے پاس اپنے فرشتے جبریل کو بھیجا، پس وہ ان کے سامنے ایک بھلے چنگے انسان کی شکل میں ظاہر ہوئے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٧] سیدہ مریم کی بیت المقدس کے حجرہ میں عبادت :۔ سیدنا یحییٰں کی خرق عادت پیدائش کے بعد اب سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی معجزانہ بغیر باپ پیدائش کا آغاز ہو رہا ہے۔ سیدہ مریم ( علیہ السلام) بیت المقدس کے مشرقی جانب کے ایک حجرہ میں گوشہ نشین ہو کر اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کرتیں۔ پھر اس کمرہ میں بھی ایک پردہ ڈال لیا تاکہ دوسرے لوگوں سے بھی الگ تھلگ رہ کر پوری یکسوئی سے ذکر و فکر میں مشغول رہ سکیں اور اس کا دوسرا مطلب یہ لیا گیا ہے کہ جب جوان ہوئیں تو انھیں حیض آگیا اور بہت زیادہ شرم محسوس ہوئی تو اس وقت سب لوگوں سے پردہ کرلیا۔ پھر اسی علیحدگی میں غسل حیض بھی کیا۔ [١٨] یہاں روح سے مراد فرشتہ ہے۔ سیدنا جبریل ایک نوجوان اور خوبصورت مرد کی شکل میں اسی پردہ کے مقام پر نمودار ہوگئے اور فرشتے جب انسانی شکل میں نبیوں یا برگزیدہ ہستیوں کے پاس آتے ہیں تو عموما خوش منظر صورتوں میں ہی آتے ہیں۔