سورة مريم - آیت 7

يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اے زکریا ہم آپ کو ایک لڑکے کی خوشخبری (٣) دیتے ہیں، جس کا نام یحی ہوگا، اس سے پہلے اس کا ہم نے کوئی ہم نام نہیں بنایا ہے۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٩] یحییٰ اللہ کا اپنا تجویز کردہ نام :۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کرکے بیٹے کی بشارت دی تو ساتھ ہی نام بھی خود ہی تجویز فرما دیا اور نام بھی ایسا انوکھا کہ پہلے کسی آدمی کا یہ نام نہیں رکھا گیا تھا۔ یحییٰ: دعائیہ نام ہے یعنی اللہ کرے تادیر زندہ رہے۔ جیسے ہمارے ہاں جیونا یا جیونی نام رکھتے ہیں اور عرب میں عائش اور عائشہ، نیز اسم بمعنی صفت بھی ہوسکتا ہے جیسے وللّٰہ الاسماء الحسنیٰ کے معنی’’ اللہ کے بہترین نام‘‘ بھی ہوسکتے ہیں اور ”بہترین صفات“بھی، اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہوگا کہ ایسی اچھی سیرت والاآدمی پہلے کوئی نہیں ہوا۔