سورة الكهف - آیت 54

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال (٣١) بیان کردی ہے اور انسان سب سے زیادہ جھگڑا لو ہے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٥٢] انسان فطرتا جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ مشیئت الہی کو بہانہ بنانا :۔ انسان کی ہدایت کے لیے اس کی عقل اور اس کے دل کو اپیل کرنے والی بہت سے دلیلیں مختلف پیرا یوں میں اور دل نشین انداز میں بیان کردی ہیں مگر انسان کچھ اس طرح کا جھگڑالو اور ہٹ دھرم واقع ہوا ہے کہ جس بات کو نہ ماننے کا تہیہ کرلے اس پر کئی طرح کے اعتراض وارد کرسکتا ہے۔ جھوٹے دلائل اور حیلوں بہانوں سے جواب پیش کرسکتا ہے۔ بات کا موضوع ہی بدل کر گندم کا جواب چنے میں دے سکتا ہے مگر حقیقت کو قبول کرلینا گوارا نہیں کرتا اور انسان کی یہ سرشت صرف ضدی، ہٹ دھرم اور مجرم قسم کے لوگوں میں نہیں ہوتی بلکہ بعض دفعہ ایک نیکو کار مومن بھی اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کوئی عذر تلاش کرلیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا علی فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم دونوں (میں اور فاطمہ) کو مخاطب کرکے کہا کہ ''تم لوگ تہجد کی نماز کیوں نہیں پڑھتے'' میں نے جواب دیا ''یارسول اللہ ہمارے نفس اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے گا کہ ہم اٹھیں تو اٹھ جائیں گے'' یہ سن کر آپ فوراً واپس ہوگئے اور اپنی ران پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : ( وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا 54؀) 18۔ الکہف :54) (بخاری، کتاب التھجد۔ باب تحریض النبی علی قیام اللیل والنوافل) گویا سیدنا علی نے اپنے قصور کا اعتراف کرنے کی بجائے مشیئت الٰہی کا عذر پیش کردیا اور اس اختیار کی طرف توجہ نہ کی جو انھیں اور ہر انسان کو عطا کیا گیا ہے۔