سورة الكهف - آیت 35

وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِ أَبَدًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور وہ اپنے باغ میں اس حال میں داخل ہوا کہ وہ اپنے حق میں ظلم کرنے والا تھا، کہا کہ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ باغ کبھی تباہ ہوجائے گا۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣٦] ایک موحد اور ایک کافر و مشرک کی مثال :۔ ایک دن وہ اپنے باغ کے پاس کھڑا تھا کہ اس کے مفلس ہمسایہ کا ادھر سے گذر ہوا تو اس سے اپنی شیخی بگھارنے بیٹھ گیا اور اس سے کہنے لگا جیسی زندگی تم گزار رہے ہو میں بہرحال تم سے بہتر ہوں۔ مالدار بھی اور اولاد بھی کافی ہے یہی باتیں کہتے کہتے وہ اپنے ہمسایہ کو لیے ہوئے اپنے باغ میں داخل ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے اس باغ پر اتنی محنت کی ہے اور ایسے انتظامات مکمل کردیئے ہیں کہ کم از کم میری زندگی میں یہ باغ اجڑ نہیں سکتا اور جس قیامت کی تم باتیں کرتے رہتے ہو، اول تو مجھے اس کا یقین ہی نہیں اور اگر قائم ہوئی بھی جیسا کہ تم کہتے ہو تو جس خدا نے مجھ پر اس دنیا میں اتنی مہربانی اور اپنا فضل کیا ہے آخر وہ اس زندگی میں مجھ پر کیوں فضل نہ کرے گا ؟ اور قریشی سرداروں کا بھی یہی نظریہ تھا۔ اس آیت میں دراصل دنیا دار لوگوں کے اس غلط نظریہ کی تردید کی گئی ہے کہ اگر انھیں اس دنیا میں آسودہ حالی مہیا ہے تو یہ اللہ کی ان پر خوشنودی کی دلیل ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے سخت آزمائش میں پڑے ہوتے ہیں کہ آیا وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں یا اس کے نافرمان بن کر رہتے ہیں لیکن وہ یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ جنت تو ہمیں مل ہی گئی ہے اب اور کون سی جنت ہے جسے حاصل کرنے کی فکر کریں۔