سورة البقرة - آیت 198

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ ۚ فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۖ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

تمہارے لیے اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش (284) کرو، جب عرفات سے لوٹو تو مشعر حرام (285) کے پاس اللہ کو یاد کرو، اور اسے یاد کرو جیسا اس نے تمہیں ہدایت دی، اگرچہ تم اس سے پہلے راہ بھٹکے ہوئے تھے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٢٦٧] جاہلیت کے غلط اعتقادات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ حج کے دوران تجارت کرنا مکروہ خیال کرتے تھے اور اسے خلوص عمل کے خلاف سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت فرما دی جبکہ اصل مقصود حج ہی ہو اور تجارت سے حج کے ارکان وغیرہ میں کچھ خلل واقع نہ ہوتا ہو۔ چنانچہ عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں (منیٰ) میں عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز بازار لگا کرتے تھے (صحابہ (رض) نے) حج کے دنوں میں تجارت کو گناہ خیال کیا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) [٢٦٨] اس آیت سے معلوم ہوا کہ ارکان حج میں سے عرفات میں وقوف بہت ضروری بلکہ رکن اعظم ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار فرمایا : حج عرفات کی حاضری ہے، حج عرفات کی حاضری ہے۔ حج عرفات کی حاضری ہے۔ منیٰ کے تین دن ہیں، پھر جو شخص جلدی کر کے دو دن میں ہی چلا گیا، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرا دن ٹھہرا رہا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جس نے طلوع فجر سے پہلے پہلے عرفات کا وقوف پا لیا۔ اس نے حج پا لیا۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) [٢٦٩] مشعر الحرام مزدلفہ کی ایک پہاڑی کا نام ہے جس پر امام وقوف کرتا ہے۔ اس پہاڑی پر وقوف کرنا افضل ہے۔ یہ نہ ہو سکے تو پھر جہاں بھی قیام کرلے جائز ہے، سوائے وادی محسر کے۔ [٢٧٠] مشرکین بھی اللہ کا ذکر تو کرتے تھے۔ مگر اس میں شرکیہ کلمات کی آمیزش ہوتی تھی۔ اسی ضلالت سے بچنے کی اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی اور وہ شرکیہ کلمات یہ تھے : ''الا شریکا ھولک تملک وماملک'' مگر تیرا وہ شریک جس کا تو مالک ہے وہ تیرا مالک نہیں) مسلم، کتاب الحج، باب التلبیۃ)