سورة النحل - آیت 40

إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَن نَّقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو اس سے صرف یہ کہتے ہیں کہ ہوجا، پس وہ چیز ہوجاتی ہے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٤١] کلمہ کن فیکون کی صورت :۔ اللہ کا ارادہ کرلینا ہی اس کا حکم دینا ہے اسے اپنی زبان سے کن کا لفظ ادا کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کا ارادہ ہی حکم کا درجہ رکھتا ہے اور جب وہ ارادہ کرتا ہے تو اس کی تکمیل کے لیے اسباب و وسائل از خود ہی مہیا ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور وہ کام ہو کے رہتا ہے کوئی چیز اس میں مزاحم نہیں ہوسکتی۔ اور جتنے عرصہ میں اللہ اسے وجود میں لانا چاہتا ہے اتنے ہی عرصہ میں وہ وجود میں آجاتی ہے۔