سورة یوسف - آیت 86

قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

یعقوب نے کہا، میں اپنا درد و غم اور حزن و الم اللہ سے کہتا ہوں (٧٣) اور اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم لوگ نہیں جانتے ہو۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٨٣] اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے :۔ باپ کے منہ سے آہ سن کر بھی حاسد بیٹوں کو ان پر رحم نہ آیا بلکہ الٹا باپ کو ملامت کرنے لگے کہ اب اس کے قصہ کو چھوڑتے بھی ہو یا نہیں؟ یا اسی کے غم میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے؟ مغموم باپ نے انھیں جواب دیا کہ میں تمہیں تو کچھ نہیں کہتا۔ تم نے جو کچھ چاہا کرلیا۔ میں تو اپنی پریشان حالی کو اللہ کے سامنے پیش کرتا اور اسی سے صبر کی توفیق چاہتا ہوں۔ کیونکہ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یوسف ابھی زندہ ہے جسے اللہ نے مجھ سے دور کردیا ہے۔ کیونکہ سیدنا یوسف علیہ السلام کو جو خواب آیا تھا اس وجہ سے آپ کو یقین تھا کہ یقیناً یوسف علیہ السلام زندہ ہے اور کسی نہ کسی دن ضرور اس سے ملاقات ہوگی اور وہ خواب پورا ہوکے رہے گا اور یہی وہ بات تھی جسے یعقوب علیہ السلام تو جانتے تھے لیکن ان کے بیٹے نہیں جانتے تھے اور آپ اپنے بیٹوں کو یہ بات بتانا بھی نہیں چاہتے تھے کہ کہیں حسد کے مارے جل بھن نہ جائیں۔