سورة یوسف - آیت 43

وَقَالَ الْمَلِكُ إِنِّي أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ ۖ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي رُؤْيَايَ إِن كُنتُمْ لِلرُّؤْيَا تَعْبُرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور بادشاہ نے کہا (٣٩) میں نے دیکھا ہے کہ سات دبلی گائیں سات موٹی گایوں کو کھا رہی ہیں، اور سات ہری بالیوں کو اور دوسری سات خشک بالیوں کو دیکھا ہے، اے حاضرین مجلس ! اگر تم خواب کی تعبیر بتا سکتے ہو تو میرے خواب کی تعبیر بتاؤ۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٤٣] شاہ مصر کا خواب :۔ طویل مدت کے بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس رہا ہونے والے ساقی کو سیدنا یوسف کا پیغام یاد دلایا۔ واقعہ یہ ہوا کہ شاہ مصر کو ایک عجیب اور ڈراؤنا سا خواب آیا۔ خواب میں اس نے دیکھا کہ سات دبلی گائیں ہیں جو اپنے سے بہت بھاری سات موٹی تازی گائیوں کا گوشت کھا رہی ہیں اور گوشت کھا کر انھیں ختم ہی کردیا ہے اور یہ سارا گوشت چٹ کر جانے کے بعد بھی وہ دبلی کی دبلی ہی ہیں۔ جیسے پہلے تھیں اور دوسرا منظر یہ دیکھا ہے کہ سات سوکھی بالیاں ہیں جو سات ہری بھری اور سرسبز بالیوں کے اوپر لپٹ گئی ہیں اور انھیں بھی سوکھا بنادیا ہے۔