سورة التوبہ - آیت 117

لَّقَد تَّابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اللہ نے نبی اور مہاجرین اور ان انصار کی طرف توجہ فرمائی جنہوں نے مشکل وقت (٩٤) میں ان کی پیروی کی، جبکہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کجی آرہی تھی، پھر اللہ نے ان پر بھی توجہ فرمائی، بیشک وہ ان پر بہت ہی شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[١٣٣] اس آیت میں تنگی کے وقت سے مراد غزوہ تبوک پر روانگی کا وقت ہے جبکہ شدید گرمی کا موسم تھا قحط سالی تھی، فصلیں پکنے والی تھیں بے سرو سامانی کی حالت تھی، سفر طویل اور پر مشقت تھا۔ چنانچہ اس وقت بعض سچے مسلمان بھی جہاد پر روانہ ہونے سے گھبرانے لگے تھے۔ آخر ان کے ایمان کی پختگی ان کے نفس پر غالب آئی اور وہ پورے عزم کے ساتھ جہاد پر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں اللہ کی مہربانی سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اس گھبراہٹ کے عالم میں انہیں روانگی کے لیے ہمت و جرأت عطا فرمائی اور نبی پر مہربانی سے مراد وہ آیت ہے جس کا آغاز ہی اس طرح ہوا تھا کہ اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ نے ایسے ہٹے کٹے، تنومند اور کھاتے پیتے منافقوں کو جہاد پر جانے سے رخصت کیوں دے دی (٩ : ٤٣)