سورة التوبہ - آیت 100

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور مہاجرین اور انصار میں سے وہ اولین لوگ (٧٧) جنہوں نے ہجرت کرنے اور ایمان لانے میں دوسروں پر سبقت کی، اور وہ دوسرے لوگ جنہوں نے ان سابقین کی اخلاص کے ساتھ پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا، اور وہ سب اللہ سے راضی (٧٨) ہوگئے، اور اللہ نے ان کے لیے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے یہی عظیم کامیابی ہے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١١٢] اولین مہاجر وانصار صحابہ اور ان کے نام :۔ مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابو بکر (رض) ایمان لائے تھے۔ عورتوں میں سیدہ خدیجہ (رض)۔ لڑکوں میں سیدنا علی اور غلاموں میں سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ۔ ان میں ماسوائے سیدنا ابو بکر صدیق (رض) کے باقی سب آپ کے گھر کے افراد تھے۔ پھر سیدنا ابو بکر صدیق (رض) کی کوشش سے جو حضرات ایمان لائے ان کے نام یہ ہیں۔ سیدنا عثمان (رض)، سیدنا زبیر بن عوام (رض)، سیدنا عبدالرحمن بن عوف (رض)، سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا طلحہ (رض)۔ پھر ان کے بعد بہت سے لوگ مسلمان ہوئے اور یہ سب مہاجرین اولین اور سابقین ہیں۔ اور انصار میں سابقین و اولین وہ پانچ شخص ہیں جنہوں نے پہلے لیلۃ العقبہ میں بیعت کی تھی یعنی حضرات بن عوف (رض)، رافع، قطبہ اور جابر (رض)۔ پھر جنہوں نے دوسری دفعہ عقبہ میں بیت کی وہ بارہ اشخاص تھے۔ پھر تیسرے عقبہ میں ستر اشخاص نے بیعت کی۔ اور یہ سب ہجرت نبوی سے پہلے اسلام لائے تھے۔ السابقون الاولون سے مراد تو وہ ابتدائی مسلمان ہیں جنہوں نے ہر تنگی و ترشی کے وقت اسلام اور پیغمبر اسلام کا ساتھ دیا تاآنکہ اللہ کا کلمہ بلند ہوگیا۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جن مسلمانوں نے کفار اور مشرکین کے بے پناہ مظالم برداشت کیے تھے ان کا درجہ عام مسلمانوں سے بلند ہی ہونا چاہیے اور اسی لحاظ سے اللہ کے ہاں وہ اجر و ثواب اور بلندی درجات کے بھی زیادہ مستحق ہیں۔ مگر ان کی تعیین میں علماء نے بہت اختلاف کیا ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے وہ مسلمان مراد ہیں جنہوں نے ہجرت نبوی سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ بعض کے نزدیک وہ مسلمان ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں (بیت المقدس اور کعبہ) کی طرف نماز پڑھی۔ بعض کے نزدیک غزوہ بدر تک کے مسلمان سابقین اولین ہیں۔ بعض اس دائرہ کو صلح حدیبیہ تک وسیع کرتے ہیں اور بعض کے نزدیک تمام مہاجرین و انصار، اطراف کے مسلمانوں اور بعد میں آنے والی نسلوں کے اعتبار سے سابقین اولین ہیں۔ اور معنیٰ کے لحاظ سے ان تمام اقوال میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ سبقت اور اولیت اضافی چیزیں ہیں۔ لہذا ایک ہی شخص (یا جماعت) ایک اعتبار سے سابق اور دوسرے اعتبار سے لاحق ہوسکتا ہے۔ السابقون الاولوں کی تعیین :۔ ہمارے خیال میں سابقین اولین سے مراد غزوہ بدر تک کے مسلمان ہیں۔ اس لیے فتح بدر کے بعد اسلام ایک مقابلہ کی قوت بن گیا تھا اور دوسرے اموال غنائم سے مسلمانوں کی معیشت کو بھی تقویت پہنچی تھی۔ یا زیادہ سے زیادہ اس دائرہ کو فتح خیبر تک وسیع کیا جا سکتا ہے جبکہ حبشہ کے مہاجرین بھی واپس پہنچ گئے تھے اور مسلمانوں کی معاشی حالت اتنی سنبھل چکی تھی کہ انہوں نے انصار سے مستعار لیے ہوئے کھجوروں کے درخت بھی انہیں واپس کردیئے تھے۔ بعد کے مسلمانوں کو نہ پہلے مسلمانوں جیسے مصائب برداشت کرنا پڑے اور نہ معاشی تنگی۔ [١١٣] تابعین کی فضیلت :۔ سابقین اولین کی طرح متبعین کی تعین میں بھی اختلاف ہے کیونکہ جو بھی حد ہم سابقین اولین کی مقرر کریں گے اس کے بعد سے متبعین کا آغاز ہوجائے گا۔ بعض کے نزدیک ان سے مراد باقی صحابہ کرام (رض) ہیں بعض کے نزدیک تابعین بھی ان میں شامل ہیں اور بعض کے نزدیک تبع تابعین بھی اور قیامت تک کے مسلمان ان میں شامل ہیں۔ بشرطیکہ وہ سابقین اولین کے طریق پر قائم ہوں۔ یعنی کتاب و سنت کے پابند ہوں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہوں اور نہایت نیک نیتی کے ساتھ ان کی پیروی کرتے ہوں۔