سورة البقرة - آیت 124

وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور (یاد کرو) جب ابراہیم (١٨٢) کو ان کے رب نے چند باتوں (١٨٣) کے ذریعہ آزمایا، تو انہوں نے ان سب کو پورا کردکھلایا، اللہ تعالیٰ نے کہا، میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں، کہا : اور میری اولاد میں سے بھی۔ تو اللہ نے فرمایا : ظالم لوگ (١٨٤) میرے اس وعدہ میں داخل نہیں ہوں گے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٤٩] حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تمام دنیا کی امامت ایسے ہی نہیں مل گئی تھی بلکہ آپ کی سن شعور سے لے کر مرنے تک پوری زندگی قربانی ہی قربانی تھی۔ دنیا میں انسان جن چیزوں سے محبت کرتا ہے ان میں کوئی چیز بھی ایسی نہ تھی جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حق کی خاطر قربان نہ کیا ہو اور ان کی خاطر مصائب نہ جھیلے ہوں جن میں سے چند ایک یہ ہیں : ١۔ آپ ایک بت گر اور بت فروش کے گھر پیدا ہوئے۔ باپ چاہتا تھا کہ بیٹا اس کام میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ لیکن آپ (علیہ السلام) نے الٹا احسن انداز میں سمجھانا شروع کردیا۔ جب باپ آپ (علیہ السلام) کی طرف سے مایوس ہوگیا تو گھر سے نکال دینے کی دھمکی دے دی۔ آپ (علیہ السلام) نے حق کی خاطر جلاوطنی کی صعوبتیں قبول کیں۔ ٢۔ قومی میلہ کے موقع پر بتوں کو پاش پاش کیا جسکے نتیجہ میں آپ (علیہ السلام) کو آگ میں جلا دینے کا فیصلہ ہوا۔ آپ (علیہ السلام) نے بخوشی اس میں کودنا منظور کیا۔ ٣۔ آپ (علیہ السلام) نے اپنی بیوی ہاجرہ علیہا السلام اور دودھ پیتے بچے کو اللہ کے حکم کے مطابق ایک بے آب و گیاہ میدان میں جا چھوڑا۔ جہاں کھانے پینے کا کوئی بندوبست نہ تھا اور نہ ہی دور دور تک کسی آبادی کے آثار نظر آتے تھے۔ ٤۔ بوڑھی عمر میں ملے ہوئے بچے اسماعیل (علیہ السلام) جب ذرا جوان ہوئے تو ان کو قربان کردینے کا حکم ہوا تو آپ بےدریغ اور بلاتامل اس پر آمادہ ہوگئے۔ غرض آپ کی قربانیوں اور آزمائشوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے خود یہ سرٹیفکیٹ عطا کردیا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی کئی باتوں سے آزمائش کی تو وہ ہر امتحان میں پورے اترے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے ان امتحانوں کے نتیجہ میں آپ کو دنیا جہان کا امام بنا دیا، اور آئندہ قیامت تک کے لیے سلسلہ نبوت کو آپ (علیہ السلام) ہی کی اولاد سے منسلک کردیا اور دنیا کے اکثر و بیشتر مذاہب اپنے مذہب کی آپ (علیہ السلام) کی طرف نسبت کرنا باعث عزت و افتخار سمجھتے ہیں۔ [ ١٥٠] یعنی امامت کا وعدہ صرف تمہاری اس اولاد سے تعلق رکھتا ہے جو صالح ہوگی۔ ظالموں اور گنہگاروں کے لیئے ایسا کوئی وعدہ نہیں۔ یہیں سے یہود کے اس غلط عقیدہ کی تردید ہوگئی جو وہ سمجھتے تھے کہ ہم چونکہ پیغمبروں کی اولاد ہیں اس لیے ہمیں عذاب اخروی نہ ہوگا۔