سورة الاعراف - آیت 70

قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا ۖ فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

انہوں نے کہا، کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادے بندگی کرتے تھے، پس اگر تو سچا ہے تو وہ عذاب لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٧٤] تقلید آباء کا عذر :۔ ان نصائح کے جواب میں قوم نے وہی جواب دیا جو عام طور پر مشرکین دیا کرتے ہیں کہ ہم بھلا اپنے باپ دادا کے دین کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں جبکہ ہمارے اسلاف ہم سے بہت زیادہ نیک اور عالم تھے ہم تمہاری یہ بات کبھی نہ مانیں گے اور اگر تم فی الواقع سچے ہو تو جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لا سکتے ہو تو لے آؤ۔ یہ یاد رہے کہ ایسے جواب صرف قوم کے سردار قسم کے لوگ دیا کرتے ہیں اور وہ ایسے ہٹ دھرم کیوں واقع ہوتے ہیں؟ اس کی وجہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں باقی کچھ کمزور قسم کے لوگ ہر نبی پر ایمان لانے والے بھی ہوتے ہیں۔ یہی حال سیدنا ہود علیہ السلام کی قوم کا تھا۔