سورة الاعراف - آیت 55

ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

تم لوگ اپنے رب کو نہایت عجز و انکساری اور خاموشی کے ساتھ پکارو (42) بے شک وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٥٨] دعا کے آداب :۔ ایسے ہی ہر چیز کے خالق و مالک اور بابرکت اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہیں اپنی حاجات پیش کرنا چاہئیں۔ اسی سے فریاد کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ عجز و انکسار کے ساتھ دعا کرو اور تہہ دل سے اور دل میں کرو اور دعا میں ریاکاری کا دخل نہ ہو اور دعا میں حد ادب سے نہ بڑھنا چاہیے مثلاً ایسی چیزوں کی دعا نہ مانگے جو عادتاً یا شرعاً محال ہوں یا معاصی یا سائل لغو چیزوں کی طلب کرنے لگے یا ایسا سوال کرے جو مانگنے والے کی شان اور حیثیت کے مطابق حال نہ ہو۔ مثلاً کوئی اپنے لیے بادشاہ بننے کی دعا کرے کہ بیٹھے بٹھائے بادشاہت مل جائے تو ایسی دعا کرنا بھی حد سے بڑھنے کے ضمن میں آ جاتا ہے۔