سورة البقرة - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، بے حد رحم کرنے والا ہے

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

فضائل سورۃ بقرہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں سورۃ بقرہ پڑھی جائے شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے۔ (مسلم:۷۸۰) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دو جگمگانے والی سورتیں یعنی بقرہ اور آل عمران پڑھاکرو، قیامت کے دن وہ اس حال میں آئیں گی جسے وہ دو بادل یا دو سائبان یا پرندوں کے دو جھنڈ ہیں ، اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے مغفرت کے لیے جھگڑا کریں گی۔ لہٰذا سورہ بقرہ پڑھا کرو۔ اسے حاصل کرنا برکت اور چھوڑ دینا حسرت ہے۔ اور باطل قوتیں (جادو وغیرہ) اس کا مقابلہ نہیں کرسکیں۔(مسلم:۸۰۴) زمانہ ٔنزول: مدنی سورتوں میں یہ سب سے پہلی سورۃ ہے۔ مکہ میں چھیاسی ۸۶ سورتیں نازل ہوئیں اور نزولی ترتیب کے لحاظ سے اس کا نمبر ۸۷ ہے۔ اگرچہ اس کا بیشتر حصہ ابتدائی مدنی دور میں نازل ہوا۔ تاہم اس کی کچھ آیات بہت بعد کے دور میں نازل ہوئیں مثلاً حرمت سود کی آیات جو ۱۰ہجری کے اواخر میں نازل ہوئیں۔