سورة المعارج - آیت 40

فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

میں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم کھاتا (١١) ہوں، میں یقیناً قادر ہوں

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

مشارق اور مغارب كی قسم: مطلب ہے مشارق ومغارب كا رب جمع كا لفظ اس لیے استعمال كیا گیا ہے كہ بعض كہتے ہیں كہ سال كے دنوں كی تعداد كے برابر مشرق ومغرب ہیں، سورج ہر روز ایك مشرق سے نكلتا اور ایك مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ سورئہ رحمٰن میں دو مشرقوں اور دو مغربوں كا ذكر ہے اور اس مقام پر بہت سے مشرقوں اور بہت سے مغربوں كا ذكر ہے۔ یعنی مشرق ومغرب كا پروردگار قسم كھاتا ہے كہ ہم ان كے ان جسموں كو جیسے یہ اب ہیں اس سے بھی بہتر صورت میں بدل ڈالنے پر پورے پورے قادر ہیں، كوئی چیز كوئی شخص اور كوئی كام ہمیں درماندہ اور عاجز نہیں كر سكتا۔ سورئہ احقاف (۳۳) میں فرمایا: ﴿اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰى اَنْ يُّحْيِ الْمَوْتٰى بَلٰى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ﴾ ’’اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ بے شک وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے؟ کیوں نہیں! یقینا وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔‘‘ سورئہ قیامہ (۳) میں فرمایا: ﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَہٗ﴾ ’’کیا انسان گمان کرتا ہے کہ بے شک ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔‘‘