سورة ص - آیت 9

أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

یا آپ کے غالب اور عطا کرنے والے رب کی رحمت کے خزانے (٤) ان کے پاس ہیں

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

یعنی اللہ کے خزانوں کے یہ تو مالک نہیں کہ جس کو چاہیں رسالت کے منصب پر فائز کر دیں۔ اور جس سے چاہیں چھین لیں۔ یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کا ہے جو ہر ایک کو دے رہا ہے۔ اور جون سی نعمت جسے چاہتا ہے اسے ہی دیتا ہے اس کے کاموں میں کسی کو مداخلت کی ہمت نہیں۔ سورہ نسا (۵۳) میں فرمایا: ﴿اَمْ لَهُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا﴾ اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔