سورة المؤمنون - آیت 18

وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَسْكَنَّاهُ فِي الْأَرْضِ ۖ وَإِنَّا عَلَىٰ ذَهَابٍ بِهِ لَقَادِرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور ہم آسمان سے مناسب مقدار میں بارش برساتے ہیں (٥) پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں اور بیشک ہم اسے غایب کردینے بھی قادر ہیں۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

پانی کی کل مقدار جو اللہ نے آسمان سے اتاری: سوال یہ ہے کہ یہ ایک خاص مقدار میں پانی اللہ تعالیٰ نے کب اتارا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی تو اس وقت ہی ایک خاص اور کثیر مقدار میں پانی اتار دیا تھا، اتنا کثیر مقدار میں جو قیامت تک زمین پر پیدا ہونے والی مخلوق، خواہ وہ کسی نوع سے تعلق رکھتی ہو، کی ضروریات کے لیے کافی ہو، اس کثیر مقدار کے ایک کثیر حصہ نے زمین کی تین چوتھائی سطح کو سمندروں میں تبدیل کر رکھا ہے۔ پھر اس کثیر مقدار کا کثیر حصہ زمین کی سطح کے نیچے چلا گیا جیسے زمین کے نیچے بھی پانی کے دریا بہہ رہے ہیں اور سطح زمیں کا کثیر حصہ ایسا ہے کہ اسے جہاں سے بھی کھودیں پانی نکل آتا ہے۔ جسے انسان نکال کر اپنے استعمال میں لاتا ہے۔ کبھی از خود زمین سے چشمے ابل پڑتے ہیں، پھر اپنی مخلوق کی ضروریات کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم فرمایا، کہ سورج کی گرمی سے سمندر سے بخارات اوپر اٹھتے ہیں جو کسی سرد طبقہ میں پہنچ کر بادلوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور مزید سردی سے زمین پر برسنے لگتے ہیں اس بارش کے پانی سے زمین کی تمام نباتات سیراب ہوتی ہیں، جاندار بھی اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں، پھر اس بارش کا کچھ حصہ زمین میں جذب ہو جاتا ہے۔ اور باقی حصہ ندی نالوں اور دریاؤں کی شکل میں سمندر میں جا گرتا ہے اور جو پانی مخلوق استعمال کرتی ہے۔ وہ بھی بالآخر یا تو پانی کی شکل میں زمین میں چلا جاتا ہے۔ یا بخارات بن کر ہوا میں مل جاتا ہے۔ ان تصریحات سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کی جتنی مقدار زمین پر نازل فرمائی تھی اس مقدار میں نہ کچھ اضافہ ہوا ہے اور نہ کمی ہی ہوئی ہے۔ البتہ اس طریقہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی ضروریات کی تکمیل کا ایک مستقل اور دائمی انتظام، مہیا فرما دیا ہے۔ بلا شبہ ہم اسے لے جانے پر قادر ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی ضروریات کے مطابق بوقت ضرورت آسمان سے پانی برساتے ہیں نہ اتنا زیادہ کہ مخلوق ڈوب کر مرجائے اور نہ اتنا کم کہ مخلوق قحط میں مبتلا ہو کر مر جائے الا یہ کہ وہ عذاب الٰہی ہی کی شکل ہو اور اگر پانی کے زمین دوز ذخیروں کو اتنی گہرائی تک لے جائیں کہ اسے نکالنا انسان کی بساط سے باہر ہو جائے یا ان ذخیروں کو کڑوا کسیلا بنا دیں جو قابل استعمال ہی نہ رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب باتوں پر قادر ہے۔