سورة الأنبياء - آیت 19

وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے سب اسی کی ملکیت میں ہیں اور جو فرشتے اس کے پاس ہیں اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

فرشتوں کا تذکرہ: یعنی فرشتے اللہ کی ایسی مخلوق ہیں جو ہر آن اللہ کی حمد و تسبیح میں مشغول رہتے ہیں اور وہ اللہ کی بندگی کو ناگوار سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ نہایت خوش دلی سے بجالاتے ہیں۔ یہاں لفظ ’’ یَسْتَحْسِرُوْنَ‘‘ کا استعمال فرمایا ہے اور استحسار ایسی تھکاوٹ یا اُکتاہٹ کو کہتے ہیں جو کسی ناگوار کام کرنے سے لاحق ہوتی ہے اور ان کی یہ تسبیح بالکل ایسے ہی بلا وقفہ ہوتی ہے جیسے انسان مسلسل سانس لیتا ہے۔ اور اس میں کبھی وقفہ نہیں ہوتا۔ مطلب یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ کا انسان کی تخلیق سے مقصود اپنی عبادت ہی ہوتا تو فرشتے یہ کام بطریق احسن بجا لا رہے تھے لیکن اصل مقصد یہ تھا کہ یہاں حق و باطل کا معرکہ بپا ہو اور وہ انسان کو پیدا کرنے اور اسے عقل اور قوت اختیار دینے سے ہی ہو سکتا تھا اور انسان کی آزمائش اسی طرح ہو سکتی تھی۔