سورة مريم - آیت 88

وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور مشرکین کہتے ہیں کہ رحمن نے کسی کو اپنی اولاد (٥٣) بنا رکھا ہے۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

یہود کے نزدیک عزیر علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں اور دوسرے مشرکین دیوتا اور دیویاں سب کو اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں یا ان کی اولاد مانتے ہیں۔ گویا ان لوگوں نے اللہ کی نسل ہی چلا دی۔ اللہ کے حق میں یہ اس قدر گستاخانہ بات ہے کہ اگر زمین و آسمان اور پہاڑ ہول کے مارے پھٹ جائیں او رٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں تو کچھ عجب نہیں، اس گستاخی پر اگر اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑک اُٹھے اور زمین وآسمان کے پرخچے اُڑ جائیں نظام عالم تباہ و برباد ہو جائے تو سب کچھ ممکن ہے۔ یہ تو محض اللہ کا حلم ہے جو ایسی بے ہودہ بات سن کر بھی دنیا کو یکدم تباہ نہیں کر رہا۔ سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا: ’’(گویا یہ حدیث قدسی ہے) کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ابن آدم نے مجھے جھٹلایا اور اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے، اور ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں اسے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا، گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میری اولاد ہے۔ حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ کسی کو بیوی یا بیٹا بناؤں۔ (بخاری: ۴۹۷۴)