سورة الكهف - آیت 7

إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

جو کچھ زمین پر ہے اسے ہم نے اس کی زینت (٣) بنائی ہے تاکہ ہم انسان کو آزمائیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے کون سب سے اچھا ہے۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

روئے زمین پر جو کچھ ہے جیسے حیوانات، جمادات، معدنیات اور دیگر مدفون خزانے، کہ یہ سب فنا ہونے والے ہیں۔ دنیا فانی ہے، اس کی زینت روبہ زوال ہے۔ آخرت باقی ہے اس کی نعمت دائمی و ابدی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’دنیا میٹھی اور سر سبز ہے۔ اللہ تعالیٰ تمھیں اس میں خلیفہ بنا کر دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو۔ پس دنیا سے اور عورتوں سے بچو کہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔‘‘ (مسلم: ۲۷۴۲) کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ: یہ لوگ دنیا کی دلچسپیوں اور لذتوں میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ حالت بدستور قائم رہے حالانکہ دنیا کی انھی دلچسپیوں کو ہم نے ان لوگوں کی آزمایش کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اور ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب اس زمین پر نہ لہلاتے کھیت ہوں گے نہ مہکتے باغ، نہ مال و مویشی، بس یہ ایک چٹیل میدان ہوگی کسی کی ملکیت میں کوئی بھی چیز نہ ہوگی۔ یہ مال و اولاد، یہ غلام، عزہ و جاہ کے یہ سب وسائل فنا ہو جائیں گے اس وقت اگر کوئی چیز کار آمد ہوگی تو وہ انسان کے اچھے اعمال ہوں گے جو اس کے ساتھ جائیں گے۔ لہٰذا انسان کو اپنی توجہ فانی چیزوں کی بجائے باقی رہ جانے چیزوں پر صرف کرنی چاہیے اور وہ اعمال ہیں، کیونکہ سزا و جزا کا دارومدار اعمال پر ہوگا۔