سورة النحل - آیت 4

خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اس نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے، پھر وہ اچانک کھلم کھلا جھگڑا لو بن جاتا ہے۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

خصیم مبین سے مراد: انسان ایک ننھی، حقیر سی بوند سے پیداہوا پھر جب بحث و استدلال کے ڈھنگ سیکھ جاتاہے یا شعور آتاہے تو اپنے مدعا پر طرح طرح کے دلائل پیش کرتاہے ۔ حق کے مقابلے میں کٹ حجتیاں پیش کرنے لگ جاتاہے۔ حتی کہ اپنے خالق اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی جھگڑا کرنے سے باز نہیں آتا۔ اپنی اوقات کی طرف نہیں دیکھتاکہ وہ ایک حقیر سی بوند سے پیداکیاگیاہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر تھوک کر فرمایا کہ باری تعالیٰ فرماتاہے کہ اے انسان ! تو مجھے کیا عاجز کرسکتاہے ۔ میں نے تو تجھے اس تھوک جیسی چیز سے پیداکیاہے جب تو زندگی پاگیا، تنو مند ہوگیا، لباس، مکان مل گیا تو لگا سمیٹنے اور میری راہ سے روکنے ؟ اور جب دم گلے میں اٹکا تو تو کہنے لگاکہ اب میں صدقہ کرتاہوں راہ اللہ دیتاہوں، بس اب صدقے خیرات کا وقت نکل گیا۔ (مسند احمد: ۴/ ۲۱۰، ح: ۱۷۸۶۰، ابن ماجہ: ۲۷۰۷)