سورة البقرة - آیت 149

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۖ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور آپ جہاں کہیں بھی نکل کر جائیں (نماز میں) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کریں، اور بے شک آپ کے رب کی طرف سے یہی حق ہے، اور اے لوگو، اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

قبلہ کی طرف منہ پھیرنے کا حکم تین مرتبہ دہرایا گیا تاکہ اس کی اہمیت واضح ہوجائے۔ كیونكہ (۱) ایك تو یہ كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش اور م رضی تھی۔ (۲) دوسرے كعبہ ہر شخص کے لیے دعوت اور راہنمائی کا مستقل مرکز۔ (۳) اور تیسرے مخالفین کے اعتراضات کا ازالہ ہو (۴)چوتھے حضرت ابراہیم کی دعا کے پورا ہونے کا وقت آگیا۔ قبلہ کی تبدیلی راہنمائی تھی (۵) اور پانچویں یہ كہ اللہ نے اپنی نعمت پوری کردی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا جو اللہ کی کتاب کی تلاوت سنائیں گے۔ (۱) حکمت کی تعلیم دیں۔ (۲) نفس کو پاک کریں۔ (۳) وہ کچھ بتائے جو ہم نہیں جانتے ۔ آپ کی تعلیمات سے سوسائٹی کا ماحول بدل گیا جو بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے وہ امام بن گئے۔ سوچ بدلی۔رہن سہن بدلا۔ اوڑھنا بچھونا بدل گیا ۔ مجھ ہی سے ڈرو: یعنی مشرکوں کی باتوں کی پروا نہ کرو جووہ کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا قبلہ تو اختیار کرلیا ۔ عنقریب دین بھی اختیار کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے استغفار كو لازم پكڑا ، اللہ تعالیٰ اس كے لیے ہر تنگی اور ہر پریشانی سے نكلنے كا راستہ بنا دے گا، اور اس كو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا۔ ‘‘ (ابوداؤد: ۱۵۲۰)