سورة یونس - آیت 92

فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ۚ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

تو آج ہم تیرے جسم کو پانی سے نکال لیں گے تاکہ تو اپنے بعد آنے والوں کے لیے نشان عبرت بن جائے، اور بہت سے لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہوتے ہیں۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

فرعون کی لاش کی حفاظت کا مطلب تفسیر طبری میں ہے کہ بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کو فرعون کی موت کا شک پید اہو گیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے دریاکو حکم دیاکہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ چنانچہ اس کا جسم معہ اس کے لباس کے خشکی پر ڈال دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہو جائے اور ان کے لیے نشانی و عبرت بن جائے۔ (تفسیر طبری) تاکہ لوگ جان لیں کہ غضب الٰہی کو کوئی چیز ٹال نہیں سکتی اس کے باوجود ان کھلے واقعات دیکھنے کے بعد بھی ہماری آیات سے غفلت برتتے ہیں۔