سورة آل عمران - آیت 130

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اے ایمان والو ! کئی گنا بڑھا کر سود (92) نہ کھاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ

تفسیر ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

44: امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرمایا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر مکہ کے مشرکین نے سود پر قرض لے کر جنگ کی تیاری کی تھی، اس لئے کسی مسلمان کے دل میں بھی خیال ہوسکتا تھا کہ مسلمان بھی جنگ کی تیاری میں یہی طریقہ اختیار کریں، اس آیت نے انہیں خبر دار کردیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے، یہاں سود کو کئی گنا بڑھاکر کھانے کا جوذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے ؛ بلکہ اس وقت چونکہ سودی قرضوں میں بکثرت یہی ہوتا تھا کہ سود اصل سے کئی گنا بڑھ جاتا تھا اس لئے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے ورنہ سورۂ بقرہ (آیت ٢٧٧ اور ٢٧٨) میں صاف واضح کردیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنی بھی زیادتی ہو وہ سود میں داخل اور حرام ہے۔