سورة العنكبوت - آیت 13

وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ ۖ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

وہ یقینا اپنے گناہوں کابوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ دوسرے بوجھ بی اور (اور دنیا میں اللہ، رسول، اور دین اسلام کے بارے میں) جو کچھ جھوٹ بولتے رہے تھے قیامت کے دن ان سے اس کے بارے میں پوچھاجائے گا

تفسیر ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(٤) پھر بعض نو مسلم ایسے بھی تھے جن کو ان کے قبیلے کے لوگ کہتے کہ آخرت کا عذاب وثواب ہماری گردن، پر تم ہمارا کہا مانو اس شخص (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے الگ ہوجاؤ۔ آیت ١٢، ١٣، میں اسی کا جواب دیا گیا یعنی اول تو ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی دوسراشخص کسی کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لے، اور گناہ کرنے والے مکافات عمل سے بچ جائے اور پھر انہیں تو یوں بھی دوہرا بوجھ اٹھانا پڑے گا، ایک بوجھ خود گمراہ ہونے اور دوسرا گمراہ کرنے کا (دیکھیے، سورۃ النحل آیت ٢٥)۔