سورة البقرة - آیت 63

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا، اور طور پہاڑ (١١٥) کو تمہارے اوپر اٹھایا ( اور کہا کہ) ہم نے تمہیں جو دیا ہے اسے مضبوطی کے ساتھ تھام لو، اور اس میں جو ہے اسے یاد کرو تاکہ (اللہ سے) ڈرو

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

میثاق بنی اسرائیل : (ف ٢) اسی پارے میں اس میثاق کی تشریح فرما دی ہے کہ وہ کن باتوں پر مشتمل ہے ، (١) خدا کی عبادت (آیت) ’’ واذا اخذنا میثاق بنی اسرآء یل لا تعبدون الا اللہ ‘‘۔ (٢) ماں باپ سے حسن سلوک ۔ (آیت) ’’ وبالوالدین احسانا ‘‘۔ (٣) اقربا سے اور یتامی ومساکین سے اچھا برتاؤ ۔ (آیت) ’’ وقولوا للناس حسنا ‘‘۔ (٥) صلوۃ وزکوۃ کا قیام وتنظیم ۔ (آیت) ’’ واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ ‘‘۔ یہ عہد تھا جو بنی اسرائیل سے لیا گیا ۔ وہ دامن کوہ میں رہتے تھے اس لئے پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سامنے کیا اور کہا ، اگر ان باتوں پر عمل کرتے رہو گے تو پہاڑ کی طرف مضبوط وسربلند رہو گے اور اگر انکار کرو گے تو پھر مصائب وحوادث کا پہاڑ تمہیں پیس کر رکھ دے گا ۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے ۔ (آیت) ’’ خذوا ما اتینکم بقوۃ ‘‘۔ قرآن میں یہ کہیں نہیں آیا کہ پہاڑ ان کی مرعوب کرنے کے لئے اکھاڑا گیا تھا ، اس لئے کہ دل میں تسکین وطمانیت جب تک موجود نہ ہو ، محض جبرواکراہ سے کیا فائدہ ؟ دودھ بھی اگر عدم اشتہاء کے وقت پیا جائے تو مضر پڑتا ہے ۔ حل لغات : والنصاری : عیسائی ، منسوب بہ ناصرہ ۔ صائبین ۔ صابی ایک فرقہ تھا جس کی چند باتیں بظاہر اسلام سے ملتی جلتی تھیں ، لیکن اکثر باتوں میں وہ مجوسی تھے ۔ طور : پہاڑ ایک خاص پہاڑ ۔ تولیتم : ماضی معروف ، مصدر تولی ۔ اباو ، انکار اقرار کر کے پھر جانا ۔