سورة المرسلات - آیت 18

كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ف 2: اس قانون مکافات کا ذکر ہے ۔ جو اس دنیا میں جاری وساری ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ گو افراد کو تو برے اور اچھے عمل کی آزادی حاصل ہے ۔ مگر جب پوری قوم بدکار ہوجائے ۔ اس وقت ان کو گوارا نہیں کیا جاتا ۔ اس وقت اللہ کا قانون حرکت میں آتا ہے ۔ اور زندگی کے حق سے ان کو محروم کردیتا ہے ۔ اسی لئے فرمایا ۔ کہ پہلوں کو دیکھو ۔ کہ ان کو ان کے اعمال کی کیا سزا ملی ۔ پھر پچھلے کیوں ۔ اپنی سرکشی اور بداعمال پر نازاں ہیں ؟ *۔ باقی صفحہ حل لغات :۔ ریل ۔ اظہار تاسف کے لئے ہے ۔ فی پر مکین ۔ یعنی عورت کا رحم ۔ یہ قرآن کی لطافت بیان ہے ۔ کہ وہ نازک سے نازک مسائل کی تشیرح میں بھی انچیزوں کا اس طرح سے نام نہیں لیتا ۔ جن کا اثر انسان کے اخلاقی حیض پر پڑتا ہے ۔ اور یہ اسی خصوصیت ہے ۔ جو دنیا کی کسی الہامی کتاب میں نہیں پائی جاتی *۔