سورة المنافقون - آیت 11

وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا ۚ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور جب کسی شخص کی موت کا وقت آجائے گا تو اللہ اسے ہرگز مہلت نہیں دے گا، اور تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ اس کی پوری خبر رکھتا ہے

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مرد مسلمان کا اللہ سے تعلق ف 1: مرد مسلمان کی وابستگی اللہ تعالیٰ کے ساتھ نوع کی ہے ۔ کہ وہ مذہباً مجبور ہے ۔ کہ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ ہو ۔ ہر آن اسی کی ذات میں غوروفکر اور اس کے احکام کے ساتھ شغف ضروری بڑے سے بڑا تعلق بھی اس کے لئے اس تعلق وارادت کے مقابلہ میں ہیچ ہے ۔ جو اس کو اس حسن مطلق کے ساتھ ہے ۔ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں ہر لحظہ اور ہر آن یہ خیال رکھتا ہے ۔ کہ اس کی حرکات اور اعمال وجوارح تک اللہ کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے ۔ ومن احسن من اللہ یبغۃ اس کو حکم دیا گیا ہے ۔ کہ دیکھو دنیا میں رہو ۔ کہ مال واولاد کیمحبت تم کو الجھا دے ۔ اور تمہارے دامن کو شرک آلود کردے ۔ مال کے اکتساب میں سعی بلیغ ضروری ہے زیادہ سے زیادہ مال ودولت جمع کرو سیم وزر کے ڈھیر اپنے سامنے لگالو ۔ اسی طرح اولاد پیدا کرو ۔ اعوان وانصاف بڑھاؤ۔ مگر یہ چیزیں اللہ کی محبت کے ازدیاوکاباعث ہوں ۔ ترکہ اپنی طرف تم کو مائل کردیں ۔ جب اس کو ضرورت ہو ۔ تو یہ خزانے بےدریغ اس کی راہ میں لٹا دو ۔ اور تمام دولت نچھاور کردو ۔ اور اولاد کی ضرورت ہو ۔ تو اس سے بھی دریغ نہ کرو ۔ اسلامی فوج میں بھیج دو ۔ گریہ کیفیت ولی میں موجود ہو ۔ اور یہ عزائم ہوں ۔ تو پھر غفلت اور تساہل کے پردے اس پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ فرمایا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھا ہے ۔ اس کو اللہ کی راہ میں صرف کرو ۔ اس سے قبل کہ موت کے چنگل میں گرفتار ہوجاؤ۔ اور فنا کا فرشتہ آموجود ہو ۔ کیونکہ اس وقت دل میں حسرتیں پیدا ہوں گی ۔ جو پوری نہ ہوسکیں گی ۔ اس وقت یہ خواہش ہوگی ۔ کہ کاش موت کے لمحات میں کچھ تاخیر ہوجاتی ۔ اور چندے خیرات اور صدقات کی مہلت مل جاتی ۔ اور صلاح وتقویٰ کے مواقع میسر آجاتے ۔ مگر یہ ناممکن ہے موت کا وقت مقرر ہے ۔ اس میں ایک ثانیہ اور ایک لمحہ کی تاخیر نہیں ہوتی ۔ بڑے سے بڑا آدمی باوجود اپنی جلالت قدر کے اس کے سامنے اپنے کو جھکادیتا ہے اور یہ تسلیم کرتا ہے ۔ کہ موت کی قوتیں اس کی عقل وبصیرت سے زیادہ زبردست ہیں ۔ پھر جب یہ حقیقت ہے ۔ کہ ہر نفس کو مرنا ہے ۔ اور بھی درست ہے کہ موت ایک لمحہ کے لئے بھی ٹل نہیں سکتی ۔ تو کیا حالات کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ مسلمان میدان جہاد میں آجائیں اور املا کلمۃ اللہ کے لئے مقدور بھر سعی کریں *۔ باقی صفحہ حل لغات : ۔ الخاسرون ۔ خسارہ پانے والے *۔