سورة الصافات - آیت 75

وَلَقَدْ نَادَانَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِيبُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور نوح (١٩) نے ہمیں پکارا، تو ہم بہت اچھے فریاد سننے والے تھے

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

حضرت نوح (علیہ السلام) ف 3: یعنی وہ لوگ جن میں اخلاص ہوتا ہے جو خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں ۔ وہ عذاب میں گرفتار نہیں ہوتے وہ اللہ کے غضب اور غصہ کا مورد نہیں بنتے اور اگلا انجام دنیا وعقبیٰ کے لحاظ سے دوسروں سے کہیں بہتر اور برتر ہوتا ہے * اس کے بعد تذکیر یا نام اللہ کے اصول کے مطابق یہ فرمایا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) (آدم ثانی) نے قوم کی مخالفت عنایت تنگ آکر آخر دعا مانگی تو ہم نے قبول کرلی *۔