مَن كَانَ يَظُنُّ أَن لَّن يَنصُرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنظُرْ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهُ مَا يَغِيظُ
جو شخص یہ سمجھتا (٨) تھا کہ اللہ اپنے رسول (محمد) کی دنیا اور آخرت میں مدد نہیں کرے گا تو اسے چاہیے کہ چھت سے ایک رسی لٹکا دے پھر اپنا گلہ گھونٹ لے، پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ ترکیب اس چیز کو دور کردیتی ہے جو اسے غصہ دلاتی ہے۔
(ف ١) یہ آیت اسی قبیل سے ہے ، جس طرح کہ (آیت) ” فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الاوجس او سلما فی السمآء “۔ کی آیت ہے یعنی مقصد یہ ہے کہ جو شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرتا ہے اور یہ سمجھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یکہ وتنہا چھوڑ دے گا ، اور ان کی بالکل اعانت نہیں کرے گا ، اس کو چاہئے کہ اپنی ہی کر دیکھے ، اللہ کو بہرحال یہی منظور ہے ، کہ وہ حق کو دنیا کے گوشے گوشے تک پھیلا دئے چاہئے مخالفین اور معاندین اس کو برداشت نہ کریں ۔