سورة الكهف - آیت 84

إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

بیشک ہم نے سرزمین پر اسے (٥٢) حکومت تھی تھی اور ہر چیز کے لیے اسے سامان دیا تھا۔

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف ١) قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ یہودیون کے تعلقات مشرکین مکہ سے بہت زیادہ تھے ، بنا برین مشرکین مکہ ان سے اسلام کے متعلق اعتراضات پوچھتے رہتے ، انہوں نے کہا ہوگا پیغمبر اسلام سے ذوالقرنین کے متعلق دریافت کرو ، تاکہ معلوم ہو کہ اس کا مبلغ علم کیا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا ، یہ آیات جواب میں نازل ہوئیں ۔ قرآن حکیم کا مخصوص طرز بیان ہے ، کہ وہ غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ دیتا ہے اور قصے کے صرف اس حصہ کو بیان کرتا ہے جس کا تعلق انسانی رشد وہدایت سے ہے ، چنانچہ قرآن حکیم نے بتایا ، کہ خدائے تعالیٰ نے اسے وسیع اقتدار دے رکھا تھا ، وہ بہت بڑا فاتح تھا ، اس کا شوق فتحیابی اسے سمندر کے کنارے تک لے گیا ، جہاں اس نے سورج کو دیکھا ، کہ گولے پانی میں ڈوب رہا ہے یعنی وہ خشکی سے بہت دور ہے ، وہاں ایک قوم آباد تھی ، اس نے درخواست کی کہ ہم سے ظالمانہ سلوک نہ کیا جائے ہم مروت واحسان کے خواہشمند ہیں ، ذوالقرنین نے انہیں تسلی دی اور کہا تم غم نہ کھاؤ میں نیکوکاروں سے نیک سلوک کروں گا ۔ حل لغات : ذوالقرنین : قون وسعت یا حصہ اقتدار سے تعبیر ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سے کہا تھا ” ان لک بیتا فی الجنۃ وانت ذوقرینھا “۔ مکنا : مکنت سے ہے جس کے معنی قدرت اور توانگری کے ہیں ۔ تعرب : مراد یہ ہے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا ، اسی لئے وجدھا کا لفظ استعمال کیا ہے ۔