سورة التوبہ - آیت 128

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی

(مسلمانو) تمہارے لئے تم ہی میں سے ایک رسول (١٠٢) آئے ہیں جن پر ہر وہ بات شاق گزرتی ہے جس سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے، تمہاری ہدایت کے بڑے خواہشمند ہیں، مومنوں کے لئے نہایت شفیق و مہربان ہیں۔

تفسیرسراج البیان - محممد حنیف ندوی

مقام محمدی : (ف1) رسول کی تنکیر تعظیم شان کے لئے ہے یعنی تمہارے پاس اللہ نے ذی وقار پیغمبر بھیجا ہے ، جو تم میں سے ہے ، لوازم بشری کا حامل ہے ، انسان ہے ، انسانوں کی سی ضرورتیں ، اور حاجتیں رکھتا ہے ، بالکل تمہاری طرح اللہ کا ایک بندہ ہے مگر رتبہ ومقام کا یہ عالم ہے کہ تم میں سے بڑے سے بڑا انسان اس کی خاک پاکی برابری نہیں کرسکتا ، وہ انسان ہے ، مگر انسانیت کو اس بےنظیر ہستی پرفخر ہے ۔ حضرت ابن عباس (رض) اسی آیت کو یوں پڑھا کرتے تھے ﴿مِنْ أَنْفُسكُمْ﴾سین کے زبر کے ساتھ یعنی تم سے بہترین ، اعلی وارفع انسان کو بھیجا ہے ، عین تقاضائے رسالت ہے کہ جو پیغمبر ہو کر آئے ، وہ تمام انسانوں سے دل ودماغ ، جسم و روح ، قابلیت واستعداد کے لحاظ سے بلند ترین مقام پر فائز ہو ، حضور (ﷺ) کی تین خصوصیات بھی گنائی ہیں ، 1۔ امت کے غمگسار ہیں ۔ 2۔ قوم کی ہدایت کے لئے بیحد مشتاق ۔ 3۔ مسلمانوں کے لئے رؤف ورحیم ۔ امت کے غمگساری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ﴾کہ تم ملت کے لئے ہلکان کیوں ہوئے جاتے ہو ، ہدایت کے لئے حرص وشوق کا یہ عالم ہے کہ وقت کا ہرلمحہ تبلیغ میں صرف ہو رہا ہے ۔ آپ کی رحمتیں اور نوازشیں جن کی وجہ سے آپ کو رؤف ورحیم کے پر شکوہ لقب سے نوازا گیا ہے ، اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے ضبط کے لئے دفتروں کی ضرورت ہے ، غرض یہ ہے کہ مسلمان مقام رسالت اور مرتبہ رسول کو پہنچانیں اور سرگرم اطاعت ہوں ، اور فخر کریں کہ ہمیں اللہ نے اتنا بہتر ہادی وراہنما عنایت فرمایا ہے جسے ہم سے زیادہ ہماری فکر ہے ۔ حل لغات : عَنِتُّمْ: عنت سے ہے جس کے معنی تکلیف اور دکھ کے ہیں ۔