سورة الانفال - آیت 36

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

بے شک اہل کفر اپنی دولت (30) اس لیے خرچ کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روک دیں، پس وہ اسے خرچ کریں گے، پھر وہ ان کی حسرت کا سبب بن جائے گی، پھر وہ مغلوب بن جائیں گے، اور اہل کفر جہنم کے پاس جمع کیے جائیں گے

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف ٣) یعنی مکہ والے پوری قوت کے ساتھ اسلام کے خلاف صف آراء ہوں ، انجام کار انہیں شکست ہوگئی ، کیونکہ فتح وکامرانی کے لئے روپیہ کی ضرورت نہیں ، دولت ایمان کی احتیاج ہے ، مدرسے شکست کھا کر ان لوگوں نے آئندہ کے لئے تیاریاں کیں ، امراء نے مالی امداد دی قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ یہ مال ودولت جو اسلام کی مخالفت میں جمع کیا جا رہا ہے ان کے لئے بالآخر حسرت وندامت کا باعث ہوگا ۔ حل لغات : مکآئ: پرندے کی آواز ، سیٹی بجانا ۔ تصدیۃ : صدی سے ہے یعنی ہاتھ پر ہاتھ مارنا یعنی تالی بجانا ۔