سورة النمل - آیت 83

وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِآيَاتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور جس دن (٣٢) ہر امت میں سے ہم ایک گروہ ایسے لوگوں کا اکٹھا کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے پھر وہ صفوں میں کھڑے کیے جائیں گے

تفسیر ثنائی - ثنا اللہ امرتسری

(83۔93) اس روز دنیا میں ایک انقلاب عظیم پیدا ہوگا اور جس روز ہم ہر ایک قوم میں سے ایک جماعت ان لوگوں کی جمع کریں گے جو ہمارے حکموں کو جھٹلاتے تھے پھر وہ ایک وسیع میدان میں جمع کئے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ آئیں گے تو اللہ فرشتوں کی معرفت انکو کہے گا کیا تم نے میرے حکموں کی تکذیب کی تھی اور ان کا علم حاصل نہ کیا تھا نہ پڑھے تھے نہ بغور سنے تھے پھر کیا بلا سوچے سمجھے انکاری ہو بیٹھے تھے یا کیا کرتے تھے ان باتوں کا وہ کیا جواب دے سکیں گے بجز خاموشی اور سکوت کے کیونکہ یہ واقعات ہی ایسے ہوں گے کہ بجز تسلیم چون و چرا نہ کرسکیں اس لئے فیصلہ کیا جائے گا اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر عذاب کا حکم لگ جائے گا پھر وہ اپنا فرد جرم دیکھ کر بول نہ سکیں گے پس ان لوگوں کو چاہئے کہ اس فیصلہ عظیمہ سے پہلے ہی نیک کام کی طرف لگ جائیں کیا انہوں نے اس امر پر کبھی غور نہیں کیا کہ ہم (اللہ) نے رات کے وقت کو اس لئے بنایا کہ لوگ اس میں نیند کے ساتھ آرام حاصل کریں اور دن کو روشن بنایا تاکہ اس میں معاش کے ذرائع پر عمل کریں کیا یہ لوگ اس بات سے انکار کرسکتے ہیں کہ جس قدر سورج کی روشنی ہے مصنوعی طریق سے اتنی روشنی حاصل کرنے میں کتنا کچھ خرچ اٹھے گا تاہم کس کو توقع ہوسکتی ہے کہ ایسی روشنی ہوسکے پھر جب یہ مفت ملتی ہے تو کیا اس نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ اللہ خالق برتر کی حکم پرداری نہ کی جائے؟ بے شک اس صنعت الٰہی میں ماننے والوں کے لئے بہت سے نشانات ہیں یعنی جو لوگ کسی حقانی اور سچی بات کو ماننے کے لئے دل سے تیار رہتے ہیں ان کے لئے اس بیان میں ہدایت کے بہت سے نشان ہیں جو لوگ ان دلائل سے ہدایت پاتے ہیں ان کو فائدہ ہوتا ہے اور جس دن صور پھونکا جائے گا یعنی قیامت کا دن ہوگا تو سب لوگ آسمان اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے مگر جس کو اللہ چاہے گا اس گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا انہی لوگوں کو اس روز امن و امان ہوگا جو پروردگار کے احکام کو دل سے سنتے اور عمل کرتے ہیں اور یوں تو اس روز یہ عام حالت ہوگی کہ سب کے سب اگلے اور پچھلے تمام لوگ اللہ کے پاس عاجزانہ صورت میں حاضر ہوں گے جہاں پر ان کے اعمال کا ان پورا بدلہ ملے گا اگر نیک اعمال کئے ہوں گے تو عزت پا جائیں گے اگر بد اعمال ہوں گے تو پھنسے رہیں گے اور قیامت کے اول حصے میں یعنی فنا کے وقت تم پہاڑوں کو دیکھ کر سمجھو گے ایک جگہ پر جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑتے ہوں گے (اس آیت میں تری کا لفظ ہے جو مصارع کا صیغہ ہے عری زبان میں فارسی کی طرح مضارع دونوں معنے (حال و استقبال) کے لئے آتا ہے پس اس قاعدہ سے اس آیت کے یہی دو معنے ہوں گے ایک استقبال کے جو ہم نے کئے ہیں دوسرے حال کے۔ حال کے معنے پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ لوگ پہاڑوں کو ایک جگہ قائم دیکھ کر ان کو جمے ہوئے سمجھتے ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی طرح تیز چل رہے ہیں یعنی زمین کی حرکت کی طرف اشارہ ہے جو آج کل حکماء یورپ کی تحقیق ہے قرآن مجید نے صدیوں پیشتر اس کی خبر دے رکھی ہے ایسا کیوں نہ ہو قل انزلہ الذی یعلم السر فی السموت والارض ممکن ہے یہ معنی کسی عالم کی رائے کے خلاف ہوں۔ لیکن قرآن مجید کے الفاظ کے برخلاف نہیں (منہ) جو اللہ کی صفت ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے یعنی جس قانون اور قاعدہ پر اس کو چلایا ہے برابر چلتی ہے ممکن نہیں کہ ذرہ بھر ادھر یا ادھر ہوجائے کیونکہ اس کا علم بڑا وسیع ہے کچھ شک نہیں کہ وہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے اسی لئے اس کا عام قانون ہے جو لوگ نیک کام لے کر اس کے پاس حاضر ہوں گے ان کو اس سے اچھا بدلہ ملے گا اور وہ اس قیامت کے دن کی گھبراہٹ سے بے خوف ہوں گے گو ہیبت الٰہی کی وجہ سے وہ بھی دم بخود ہوں گے مگر انجام کے لحاظ سے ان کو بے خوف سمجھنا چاہئے اور جو لوگ برے کام لے کر حاضر ہوں گے ان کو آگ میں اوندھا کر کے ڈالا جائے گا یہ مت سمجھو کہ ان پر ظلم ہوگا نہیں بلکہ جو کچھ انہوں نے برے عمل کئے ہوں گے وہی ان کو بدلہ ملے گا یہ سن کر شاید ان کو خیال ہو کہ اچھا تم تو ہم کو ہمارے دستورات اور عبادات سے روکتے ہو تو تم نے کون سا دستور ہمارے لئے بنایا ہے تو اے نبی ! تو ان کہہ کہ میں تم کو وہی دستور بتاتا ہوں جس کا میں مامور ہوں مجھے صرف یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر (مکہ معظمہ) کے پروردگار حقیقی کی عبادت کروں جس نے اس شہر کو محترم اور معزز بنایا ہے نہ کے ان مصنوعی معبودوں کو تمہاری طرح پوجوں میں ہی کیا تمام چیزیں اسی کی زیر فرمان ہیں اسی لئے مجھے یہی حکم ہے کہ میں یہی اللہ کے فرمانبرداروں میں شامل ہوجاؤں سب سے بڑی عزت جو مخلوق کیلئے حاصل ہوسکتی ہے وہ اللہ کی فرماں برداری ہے کیا تم نے حضرت شیخ سعدی مرحوم کا قول نہیں سنا ؎ مہتری درقبول فرمان است ترک فرماں دلیل حرمان است اس لئے بس مجھ کو اور تم کو یہی حکم ہے کہ اسی کے ہو رہو اس کی فرمانبرداری کے مدعی تو بہت لوگ ہیں مگر میں تم کو اس کی ایک علامت بتلاتا ہوں کہ تابع دار کون ہے؟ تابع دار وہ ہے جو اپنی زندگی اور موت سب کو اللہ کے حوالہ کر دے یعنی ہرقسم کی حرکات اور سکنات اپنے مالک کے زیر فرمان کرے جہاں پر مالک ٹھیرنے کا حکم دے وہاں ٹھیرے جہاں چلنے کا حکم دے وہاں سے چلدے یہی معنی ہیں بزرگوں کے اس کلام کے ؎ سب کام اپنے کرنے تقدیر کے حوالے نزدیک عارفوں کے کے تدبیر ہے تو یہ ہے چونکہ اسی گر کے بتلانے کو اللہ کی طرف سے قرآن مجید نازل ہوا ہے اسی کے پڑھنے سے انسان کے دل پر نقش ہوسکتا ہے کہ میں کس کا بندہ ہوں اور کون میرا مالک ہے اس لئے مجھے یہ بھی حکم ہوا ہے کہ میں قرآن مجید پڑھوں اور تم لوگوں کو پڑھاؤں اور مطلب کی تشریح کر کے سناؤں پھر جو کوئی ہدایت پائے وہ اپنے لئے ہدایت پائے گا اور جو گمراہ ہوگا یعنی قرآن مجید کی تعلیم کی طرف دھیان نہ دے گا تو تو کہہ دے میرا کیا بگاڑے گا میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ایک ہوں مجھ سے پہلے کئی ایک ڈرانے والے ہو گزرے ہیں کوئی مانے نہ مانے مجھے اس سے کیا جس نے مجھے بھیجا ہے وہ خود سمجھ لے گا اور خوب سزا دے گا اس لئے اس نے مجھے فرمایا ہے کہ اے نبی ! تو کہہ کہ سب تعریفات اللہ کیلئے ہیں وہ تم کو اپنے نشان دکھلائے گا پھر تم انکو پہچانو گے ایسے پہچانو گے کہ صاف صاف مان جاؤ گے کہ واقعی ہمارا قصور تھا اور سن رکھو کہ تمہارا پروردگار تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں ہے جو کچھ تم کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ پاؤ گے۔