سورة الغاشية - آیت 20

وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور زمین کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح بچھا دی گئی ہے

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ﴾ ” اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔“ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کرسکیں، اس پر کھیتی باڑی کرسکیں، باغات اگاسکیں، عمارتیں تعمیر کرسکیں اور اس کے راستوں پر سفر کرسکیں ۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا ، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے ، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں، اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہوگئے ہیں ، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی ۔ رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں ، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔