سورة النسآء - آیت 58

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں (65) ان کے مالکوں تک پہنچا دو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو، تو انصاف کے ساتھ کرو، بے شک اللہ تمہیں اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

ہر وہ چیز جس پر انسان کو امین بنایا جائے اور اس کے انتظام کی ذمہ داری اس کے سپرد کی جائے، امانت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ امانتیں بغیر کسی کمی اور بغیر کسی ٹال مٹول کے پوری کی پوری ادا کردیں۔ اس میں عہدوں کی امانت، اموال کی امانت، بھید اور رازوں کی امانت اور ان مامورات کی امانت جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت رکھی جائے اس پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ چونکہ امانت کی حفاظت کئے بغیر اس کو واپس ادا کرنا ممکن نہیں، اس لیے حفاظت واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿إِلَىٰ أَهْلِهَا ﴾ ” اس کے مالک کی طرف“ میں اس بات کی دلیل ہے کہ امانت صرف اسی شخص کو لوٹائی جائے اور ادا کی جائے جو اس کا مالک ہے اور وکیل مالک ہی کے قائم مقام ہے۔ اگر وہ امانت مالک کے سوا کسی اور شخص کے حوالے کر دے تو اس نے امانت ادا نہیں کی۔ ﴿وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ﴾ ” اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے مطابق کرو“ یہ حکم ان کے درمیا ن قتل کے مقدمات، مالی مقدمات اور عزت و آبرو کے مقدمات، خواہ یہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سب کو شامل ہے اور اس کا اطلاق قریب، بعید، صالح، فاجر، دوست اور دشمن سب پر ہوتا ہے۔ وہ عدل جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں حکم دیا ہے اس سے مراد حدود و احکام میں عدل کے وہ ضابطے ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر مشروع فرمایا ہے۔ یہ حکم معرفت عدل کو مستلزم ہے تاکہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔ چونکہ یہ احکام بہت اچھے اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِنَّ اللَّـهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا ﴾ ” اللہ تم کو اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے“ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے اوامرو نواہی کی مدح و تعریف ہے کیونکہ یہ اوامرو نواہی دنیا و آخرت کے مصالح کے حصول اور دنیا و آخرت کی مضرتوں کو دور کرنے پر مشتمل ہیں کیونکہ ان اوامرو نواہی کو مشروع کرنے والی ہستی سمیع و بصیر ہے۔ جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں کے ان مصالح کو جانتا ہے جو وہ خود نہیں جانتے۔