سورة القلم - آیت 8

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

آپ جھٹلانے والوں کی بات (٣) نہ مانیں

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے : ﴿ فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ﴾ جنہوں نے آپ کو جھٹلایا اور حق کے ساتھ عناد رکھا یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے کیونکہ یہ صرف اسی بات کا حکم دیتے ہیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہوتی ہے اور یہ باطل کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔ پس ان کی اطاعت کرنے والا اس چیز کی طرف بڑھتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ آیت کریمہ ہر جھٹلانے والے اور ہراس اطاعت کے لیے عام ہے جو تکذیب سے جنم لیتی ہے اگرچہ اس کا سیاق ایک خاص معاملے میں ہے اور وہ یہ ہے کہ کفار نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ ان کے معبودوں اور ان کے دین کے بارے میں خاموش ہوجائیں ،وہ بھی آپ کے بارے میں خاموش رہیں گے، لہذا فرمایا: ﴿وَدُّوا﴾ یعنی مشرکین چاہتے ہیں ﴿لَوْ تُدْهِنُ﴾ کہ آپ ان کے موقف سے موافقت کریں قول کے ذریعے سے یا فعل کے ذریعے سے ، یا جہاں کلام کرنا ضروری ٹھہرتا ہو وہاں خاموش رہیں ﴿ فَيُدْهِنُونَ﴾ ” تو وہ بھی نرم ہوجائیں۔“ مگر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حق کو کھلم کھلا بیان کیا اور دین اسلام کا اظہار کیا کیونکہ اس کا کامل اظہار، اس کی ضد کے نقض اور اس کے متناقض نظریات کے عیب کا اظہار ہے۔