سورة الحديد - آیت 7

آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَأَنفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

لوگو ! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان (٧) لے آؤ، اور اس مال میں سے خرچ کرو، جس کا اس نے تمہیں وارث بنایا ہے، پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے خرچ کیا، ان کے لئے بڑا اجر ہے

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ،اللہ اور اس کے رسول پر اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا : ﴿فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَاَنْفَقُوْا﴾ یعنی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿لَہُمْ اَجْرٌ کَبِیْرٌ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ ‘‘اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔