سورة الواقعة - آیت 65

لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اگر ہم چاہتے تو اسے بھس بنا دیتے، پھر تم حسرت ہی کرتے رہ جاتے

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنٰہُ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو اسے کردیتے۔ ‘‘یعنی یہ کاشت کی گئی کھیتی اور اس کے اندر موجود پھل کو ﴿ حُطَامًا ﴾ ریزہ ریزہ کیا گیا چورا،جس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ ہے نہ یہ رزق کا کام دیتا ہے ﴿فَظَلْتُمْیعنی اس کے چورا اور بھس بنائے جانے کے سبب سے ،اس کے بعد کہ تم نے اس میں بہت مشقت اٹھائی اور بہت زیادہ اخراجات برداشت کیے ،پھر تم ہوجاتے ﴿ تَفَكَّهُونَ ﴾ ندامت اٹھانے والے اور اس مصیبت پر حسرت زدہ ہونے والے جو تم پر نازل ہوئی، تمہاری ساری فرحت ،مسرت اور لذت زائل ہوجاتی اور تم کہہ اٹھتے: ﴿ إِنَّا لَمُغْرَمُونَ ﴾ ’’کہ بلا شبہ ہم پر چٹی ڈال دی گئی۔‘‘ یعنی ہم نے نقصان اٹھایا، ہم پر ایسی مصیبت نازل ہوئی جس نے ہمیں ہلاک کرڈالا، پھر اس کے بعد تمہیں معلوم ہوتا کہ یہ مصیبت تم پر کہاں سے آئی اور کس سبب سے یہ آفت تم پر آن پڑی ؟ پھر تم کہتے :﴿بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ﴾ ’’بلکہ ہم تو بالکل محروم ہی رہ گئے۔ ‘‘پس اللہ تعالیٰ کی حمد وستائش بیان کر وکہ اس نے تمہارے لیے کھیتی اگائی ،اسے باقی رکھا۔ اسے تمہارے لیے پایہ تکمیل کو پہنچایا ،اس پر کوئی آفت نہ بھیجی جس کی وجہ سے تم اس کے فائدے اور اس کی بھلائی سے محروم ہوجاتے۔