سورة النجم - آیت 17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

نہ ان کی نگاہ نے خطا (١٠) کی، اور نہ حد سے متجاوز ہوئی

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ﴾ یعنی نگاہ اپنے مقصود سے ہٹ کردائیں بائیں نہیں ہوئی۔ ﴿وَمَا طَغٰی﴾ اور نہ نگاہ نے اپنے مقصود سے تجاوز ہی کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال ادب ہے کہ آپ اس مقام پر کھڑے رہے جہاں اللہ نے آپ کو کھڑا کیا، آپ اس مقام سے پیچھے ہٹے نہ اس سے تجاوز کیا اور نہ ادھر ادھر انحراف ہی کیا۔ یہ کامل ترین ادب ہے جس میں آپ اولین وآخرین پر فوقیت لے گئے۔ مندرجہ ذیل امور میں سے ایک پر عمل کرنے سے کمال ادب میں خلل واقع ہوتا ہے: *بندہ ان امور پر قائم نہ رہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ *اس میں کوتاہی کرے۔ *اس میں افراط سے کام لے۔ *اس پر قائم رہتے ہوئے دائیں بائیں التفات کرے۔ مذکورہ تمام امور میں سے ایک بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر موجود نہ تھا۔