سورة ق - آیت 45

نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اہل کفر جو کچھ کہتے ہیں، ہم اسے خوب جانتے (٣٤) ہیں، اور آپ کا کام انہیں (ایمان لانے پر) مجبور کرنا نہیں ہے، پس آپ قرآن کے ذریعہ اس آدمی کو نصیحت کرتے رہئے جو میری دھمکی سے ڈرتا ہے

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ﴾ ہم جانتے ہیں جو وہ آپ کو تکلیف دہ باتیں کہتے ہیں، جن سے آپ غم زدہ ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ سب کچھ جانتے ہیں تب آپ کو معلوم ہوگیا کہ ہم آپ پر کیسی عنایت رکھتے ہیں، آپ کے معاملات کو کیسے آسان بناتے ہیں اور آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف کیسے مدد سے نوازتے ہیں۔ پس آپ کے دل کو خوش اور آپ کے نفس کو مطمئن ہونا چاہیے اور تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس سے زیادہ رحمت و رافت رکھتے ہیں جو آپ خود اپنے آپ پر رکھتے ہیں۔ اس لئے آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے انتظار اور اولوالعزم رسولوں کی سیرت کے ذریعے سے تسلی حاصل کرنے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہے۔ ﴿وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ﴾ آپ کو ان پر مسلط نہیں کیا گیا ﴿إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ﴾ (الرعد : 13؍7) ” آپ تو صرف متنبہ کرنے والے ہیں اور ہر ایک قوم کے لئے ایک راہ نما ہوتا ہے۔“ بنا بریں فرمایا : ﴿فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ﴾ یہاں تذکیر سے مراد وہ نصیحت ہے جو عقل و فطرت میں راسخ ہے یعنی نیکی سے محبت کرنا، اس کو ترجیح دینا اور اس پر عمل کرنا نیز بدی کو ناپسند کرنا اور اس سے دور رہنا اس تذکیر سے وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈرتے ہیں اور رہے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی وعید سے خائف ہیں نہ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو ان کو نصیحت کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ان پر حجت قائم ہوتی ہے، تاکہ وہ یہ نہ کہیں : ﴿ مَا جَاءَنَا مِن بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ﴾ (المائدۃ: 5؍19)” ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا آیا نہ متنبہ کرنے والا۔ “